حکومت اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر ٹیکس تحفظات کو فوری دور کرے،صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس

پیر ستمبر 19:48

حکومت اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر ٹیکس تحفظات کو فوری دور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2019ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سی پیک منصوبے کے تحت بننے والے اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کرنے پر 1.5فیصد ٹرون اوور ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں سرمایہ کاروں کے تحفظات فوری طور پر دور کرے ورنہ اگر یہ مسئلہ بروقت حل نہ کیا گیا تو ان زونز میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچے گا اور نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اسپیشل اکنامک زونز سے کافی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں جبکہ ان زونز کی بروقت تکمیل سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو گی، روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا اور ملک کے پسماندہ علاقوں تک اس کے مثبت اثرات پہنچیں گے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان زونز میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے ٹرن اوور ٹیکس سمیت تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

(جاری ہے)

احمد حسن مغل نے کہا کہ حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012کے تحت یہ اعلان کیا تھا کہ جو سرمایہ کار اسپیشل اکنامک زونز میں جون 2020تک کمرشل پیداوار شروع کریں گے ان کو دس سال تک ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی لیکن اب حکومت نے ان زونز میں سرمایہ کاروں کی سیلز پر 1.5فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد کر دیا ہے جو بلا جواز ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسپیشل اکنامک زونز میں منصوبے لگانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس وجہ سے سرمایہ کاروں کو دو سے تین سال تک نقصان میں اپنا کاروبار چلانا ہو گا لیکن ان کی سیل پر 1.5فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد کرنے سے ان کیلئے ان زونز میں سرمایہ کاری کرنے کی کشش ختم ہو جائے گی۔

لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس اہم مسئلے پر نظر ثانی کرے۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت مذکورہ ٹیکس کو فوری واپس لے تا کہ سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ اور بغیر کسی تشویش کے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر سی پیک کے تحت ملک میں 9اسپیشل اکنامک زونز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ زونز تب ہی کامیاب ہوں گے اور ان کے ثمرات معیشت و عوام کو پہنچیں گے جب زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار ان میں سرمایہ کاری کریں گے۔

انہوںنے کہا کہ ملک میں پہلے ہی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں کافی کمی واقع ہو چکی ہے لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرے اور ٹیکس سے متعلق ان کے تمام تحفظات دور کرے تا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار بڑھ چڑھ کر ان زونز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ انہوںنے کہا کہ بعض سرمایہ کار مذکورہ ٹیکس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں لہذا انہوںنے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرے تا کہ اسپیشل اکنامک زونز بروقت آباد ہو سکیں اور معیشت کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کر سکیں۔