حکومت نے بجلی صارفین پر 63 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی

صارفین سے بقایا جات وصولی سے ٹیرف میں فی یونٹ 70 پیسے اضافہ متوقع جبکہ ایک سال میں وصولی کی صورت میں ٹیرف میں 45 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل ستمبر 00:01

حکومت نے بجلی صارفین پر 63 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ ڈالنے کی تیاری ..
اسلام باد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 ستمبر2019ء) حکومت نے بجلی صارفین پر 63 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے۔ صارفین سے بقایا جات وصولی سے ٹیرف میں فی یونٹ 70 پیسے اضافہ متوقع جبکہ ایک سال میں وصولی کی صورت میں ٹیرف میں 45 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جنوری سے جون کے بقایا جات کی وصولیوں کیلئے درخواست جمع کروا دی گئی ہے، اس طرح حکومت نے بجلی صارفین پر 63 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ ڈالنے کی تیار کر لی ہے۔

یہ وصولیاں دو سہ ماہیوں کے بقایا جات کی مد میں کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق سی پی پی اے کی جانب سے جنوری سے جون 2019ء کے بقایا جات کی وصولیوں کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ درخواست پر 25 ستمبر کو نیپرا سماعت کرے گا۔

(جاری ہے)

درخواست میں دو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں 30 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد جبکہ آئیسکو، لیسکو اور فیسکو کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 33 ارب 14 کروڑ روپے وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لیسکو صارفین سے 11 ارب 35 کروڑ، آئیسکو صارفین سے 3 ارب 40 کروڑ، گیپکو صارفین سے 1 ارب 35 کروڑ اور میپکو صارفین کی جیبوں سے 5 ارب 54 کروڑ روپے نکالنے تیاری کر لی گئی ہے۔ صارفین سے بقایا جات وصولی سے ٹیرف میں فی یونٹ 70 پیسے اضافہ متوقع ہے جبکہ ایک سال میں وصولی کرنے کی صورت میں ٹیرف میں 45 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ زائد وصولیاں ہونے پر فیسکو صارفین کو 6 ارب 92 کروڑ روپے لوٹائے جائیں گے جبکہ ٹیسکو صارفین کو بھی 3 ارب 70 کروڑ روپے واپس کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ پیسکو 6 ارب 44 کروڑ، حیسکو 1 ارب، کیسکو صارفین پر 10 ارب 30 کروڑ روپے اور سیپکو صارفین کی جیبوں سے ایک ارب 30 کروڑ روپے نکالنے کی تیاریاں ہیں۔

متعلقہ عنوان :