سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران کا ہی ہاتھ تھا، امریکا کسی اقدام کا فیصلہ کرنے سے قبل مزید ثبوت چاہتا ہے، پرامید ہیں کہ جنگ کا خطرہ ٹالا جاسکے گا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحافیوں سے گفتگو

منگل ستمبر 10:50

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران کا ہی ہاتھ تھا، امریکا ..
․ واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 ستمبر2019ء) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران کا ہی ہاتھ تھا، امریکا کسی اقدام کا فیصلہ کرنے سے قبل مزید ثبوت چاہتا ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ جنگ کا خطرہ ٹالا جاسکے گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ہے جس کی مدد کے لیے وہ تیار ہیں تاہم وہ اس بات کے حتمی تعین کا انتظار کریں گے کہ حملوں کا ذمہ دار کون تھا۔

انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر لگ رہا ہے کہ یہ ایران کا کام تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا انھیں ردعمل دینے کی جلدی نہیں، ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں اور سب سے پہلے اس سلسلے میں اتحادیوں سے بات ہوگی۔

(جاری ہے)

امریکی صدر نے کہا کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب کا دورہ کریں گے تاہم انھوں نے اس دورے کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے قبل شمالی بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے۔

ہانس سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ انھوں نے ایران پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کررہا ہے۔ ادھر سعودی حکام نے کہا ہے کہ حملے میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے تاہم انہوں نے ایران کو ان حملوں کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا ہے۔ ہفتہ کو سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی ’’آرامکو‘‘ کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ متاثر ہوا ہے اور کمپنی کی نصف پیداوار معطل ہوگئی ہے جبکہ تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کی کمی آئی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو ان حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر تصاویر بھی جاری کی گئیں تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ یمنی عوام کی جانب سے ردعمل ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔سعودی تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

دریں اثناء یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے مندوب مارٹن گرفتھس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ وہ واضح طور پر نہیں جانتے کہ ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تاہم اس نے خطے میں لڑائی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے بھی خطے میں عدم استحکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔یورپی یونین اور چین کی جانب سے بھی الگ الگ بیانات میں خطے کے حالات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔