حکومت نے جے یوآئی(ف) کا دھرنا رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی

مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی، مولانا فضل الرحمان کا مئوقف ہے کہ اگر عمران خان 2014ء میں دھرنا دے سکتے ہیں تو ہمیں بھی 2019ء میں دھرنا دینے کا حق ہے، سینئر تجزیہ کار حامد میر

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل ستمبر 18:35

حکومت نے جے یوآئی(ف) کا دھرنا رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 ستمبر2019ء) حکومت نے جے یوآئی ف کا دھرنا رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی، سینئر تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کا مئوقف ہے کہ ہم جو بھی کریں گے آئین اور قانون کے دائرے میں کریں گے، اگر عمران خان 2014ء میں دھرنا دے سکتے ہیں تو ہمیں بھی 2019ء میں دھرنا دینے کا حق ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، میاں محمد سومرو اور جہانگیرترین کی جے یوآئی ف کے رہنماؤں سے ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔ تاہم حکومت نے اسلام آباد لاک ڈاؤن رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی ہے۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو منانے کیلئے سعودی عرب سے درخواست کردی ہے۔

(جاری ہے)

اب معاملہ اندرونی محاذ سے نکل بین الاقوامی محاذ پر چلا گیا ہے۔

سینئر تجزیہ کار حامد میر کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب بھی پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت میں سیاسی حالات پیدا ہوتے رہے اور کشیدگی انتہا کو پہنچی تب پاکستان کی حکومت عرب ممالک سے رابطہ قائم کرتی ہے۔1970ء میں جب ذولفقار بھٹو کی حکومت کیخلاف جمہوری اتحاد نے پاکستان نظام مصطفی کے نام پر تحریک چلائی تھی، تو اس وقت پاکستان میں سعودی سفیر نے حکومت اور اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی میز پر لانے کیلئے کردار ادا کیا۔

اسی طرح جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی تو کبھی کرنل قذافی اور عراقی صدر صدام حسین سے رابطہ قائم کیا جاتا تھا۔ لیکن اب دنیا کے حالات بدل چکے ہیں،حال ہی میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے کہ جب امریکا افغان طالبان مذاکرات ہو رہے تھے تو مولانا فضل الرحمان کو بھی کہا گیا تھا کہ افغان طالبان سے رابطہ کریں کہ حالات بہتر ہوجائیں، لیکن مولانا فضل الرحمان نے معذرت کرلی تھی۔

لیکن اب جوکہا جا رہا ہے کہ حکومت نے سعودی عرب سے رابطہ قائم کیا ہے، لیکن ابھی تک نہ توحکومت نے کوئی تصدیق کی ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس طرح کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔ تاہم مولانا فضل الرحمان نے حکومتی رہنماؤں سے کہا کہ ہم جو بھی کریں گے آئین اور قانون میں رہ کرکریں گے، اگر عمران خان 2014ء میں اسلام آباد میں دھرنا دے سکتے ہیں تو ہمیں بھی حق حاصل ہے ہم بھی 2019ء میں دھرنا دیں۔