منشیات کے استعمال سے نہ صرف افراد بلکہ خاندان اور معاشرے پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں کو منشیات سے بچانے کا بہترین طریقہ اس کی سمگلنگ روکنا ہے،

حکومت منشیات کی روک تھام کے لئے انقلابی اقدام کر رہی ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا منشیات اور منی لانڈرنگ کے مجرموں کے ڈیٹا بیس کے منصوبے ’’امان‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

منگل ستمبر 21:48

منشیات کے استعمال سے نہ صرف افراد بلکہ خاندان اور معاشرے پر سنگین اثرات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 ستمبر2019ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ منشیات کے استعمال سے نہ صرف افراد بلکہ خاندان اور معاشرے پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں کو منشیات سے بچانے کا بہترین طریقہ اس کی سمگلنگ روکنا ہے، حکومت منشیات کی روک تھام کے لئے انقلابی اقدام کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار دنیا بھر میں منشیات اور منی لانڈرنگ کے مجرموں کے ڈیٹا بیس سے متعلق مصنوعی ذہانت کے مقامی طور پر تیار کردہ منصوبے ’’امان‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں منشیات کی مہلک ترین اقسام بنائی جا رہی ہیں اور اس لعنت کے باعث ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لہذا اس کے تدارک کے لئے مربوط کاوشیں درکار ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد دیگر برائیوں میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں جن میں چوری سب سے عام برائی ہے لہذا اس سے نہ صرف ایک فرد متاثر ہوتا ہے بلکہ خاندانوں کے خاندان بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں جس کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو منشیات سے بچانے کا بہترین طریقہ منشیات کی سمگلنگ روکنا ہے، یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت منشیات کی روک تھام کے لئے انقلابی اقدام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے بعد بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی پاکستان آمد سے ملک میں منشیات کی سمگلنگ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، مغربی ممالک میں منشیات کاشت نہیں کی جاتیں تاہم سنتھیٹک ڈرگز کی پیداوار کے باعث ان ممالک میں منشیات کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد محدود کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 50 فیصد سے زائد طالب علم منشیات استعمال کرتے ہیں، منشیات معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ منشیات کی مقدار کے تعین کے ذریعے جزا اور سزا کا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی دانش پر مبنی اس ڈیٹا بیس کے قیام سے حکومت کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ ملک سے منشیات کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے، منشیات کی لعنت کے خاتمہ کے لئے کلچر، مذہب سمیت تمام وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے باعث منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کے علاج پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان منی لانڈرنگ کے ذریعے منشیات کے لئے رقوم کے استعمال کو روکنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ تقریب سے وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار آفریدی نے بھی خطاب کیا اور ’’امان‘‘ منصوبے کے خدوخال بیان کئے۔