مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اگر گرفتاریاں ہوئیں تو اس میں حکومت کا کو ئی عمل دخل نہیں ہو گا: ندیم افضل چن

حکومت نے ابھی تک کسی کوگرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، اگر گرفتار کرے گی تو نیب کرے گی اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا: معاونِ خصوصی برائے وزیراعظم

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل ستمبر 23:59

مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اگر گرفتاریاں ہوئیں تو اس میں حکومت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،17ستمبر 2019ء) وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصیندیم افضل چن نے اکتوبر میں ہوانے والے مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اگر گرفتاریاں ہوئیں تو اس میں حکومت کا کو ئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک کسی کوگرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، اگر گرفتار کرے گی تو نیب کرے گی اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ ن لیگ کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کوئی نئی بات نہیں ہے، ماضی میں اسلامی جمہوری اتحاد کیا تھا اور اسامہ بن لادن سے فنڈنگ کیا تھی؟ انہوں نے کہا کہ ن لیگ بتائے کہ کونسا ادارہ منافع میں چھوڑ کر گئی تھی ؟انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک کسی کوگرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ، اگر گرفتار کرے گی تو نیب کرے گی اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔

(جاری ہے)

اس وقت دھرنوں کا وقت نہیں بلکہ کشمیر کا ایشو ہے اور ہمیں اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان جمہوری طریقے سے آئیں گے تو حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی اور طریقے سے آئیں گے تو تاریخ اپنے آپ کودہرا بھی سکتی ہے۔ دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام ف کے رہنما حافط حمداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے سر سے خفیہ ہاتھ اٹھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پر جو خفیہ ہاتھ تھا وہ آہستہ آہستہ ہٹ رہا ہے اور دو تین ماہ میں مکمل ہٹ جائے گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت 14 ماہ میں حکومت نہیں سنبھال سکی، نالائقی اور کارکردگی کی وجہ سے ان کے کندھے سے ہاتھ اب آہستہ آہستہ اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ناجائز، نااہل اور جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے اور پی ٹی آئی کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں یہ لوگ الیکشن چوری کر کے اقتدار میں آئے ہیں۔