سپریم کورٹ نے 7 قتل کے مجرم علی محمد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا

بدھ ستمبر 20:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے 7 قتل کے مجرم علی محمد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔جڑاں والا فیصل آباد میں مجرم علی محمد نے ساتھیوں سمیت پانچ خواتین سمیت 7 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

ویڈیو لنک کے ذریعے وکلاء نے لاہور رجسٹری سے دلائل دئیے۔وکیل مقتول نے کہاکہ قتل ہونے والوں میں مہم علی، غلام فاطمہ،رابیہ بی بی،رانی اور نسرت بی بی شامل ہیں،قتل ہونے والوں میں عمر علی اور شوکت علی بھی شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اس کیس میں علی محمد کے علاوہ 14 اور لوگ بھی تھے۔ وکیل مقتول نے کہاکہ ملزم کے بھائی یعقوب کو اس کیس میں پھانسی ہو چکی ہے،ملزم کے بھائی کو پھانسی ہو گئی اور اسے پتہ تک نہیں چلا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہاکہ ہو سکتا ہے ملزم کو پتہ ہو اس نے سزا سے بچنے کے لیے ایسا بولا ہو۔ وکیل مقتول نے کہاکہ یہ اتنے ظالم لوگ ہیں کہ خواتین کے پیچھے بھاگ بھاگ کر انہیں قتل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا یہ بات درست ہے کہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ان چار ملزمان میں علی محمد کا نام نہیں ہے۔ وکیل مقتول نے کہاکہ یہ بات درست ہے جے آئی ٹی نے علی محمد کا نام نہیں دیا کیوں کہ یہ شامل تفتیش نہیں تھا۔