جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ نے معاملہ پر فل کورٹ کی تشکیل دینے کیلئے چیف جسٹس سے درخواست کردی

بدھ ستمبر 22:16

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 ستمبر2019ء) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری،سپریم کورٹ نے معاملہ پر فل کورٹ کی تشکیل دینے کیلئے چیف جسٹس سے درخواست کردی۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار جسٹس قاضی فائز کے مطابق بینچ کے دو ججز کا مقدمہ میں ممکنہ مفاد ہے،جس کے پیش نظر دونوں ججز کو مقدمہ سننے سے الگ ہونا چاہیے،موجودہ مقدمہ میں کسی جج کا ایسا کوئی ممکنہ مفاد نہیں ہے،درخواست گزار کے وکیل کی دلیل کی بنیاد امکانی ہے،کسی جج کا ذاتی مفاد چار سال بعد پیدا ہونا ہے،مستقبل کا ممکنہ امکان کسی جج کا مقدمہ سے الگ ہونے کی وجہ پر کوئی مثال نہیں،درخواست گزار کے دلائل میں بظاہر کوئی وزن بھی نہیں۔

(جاری ہے)

تحریری حکمنامہ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز عدالتی وقفہ کے دوران بینچ کے ججز نے آپس میں گفتگو کی۔سپریم کورٹ کے وقار اور عزت کے تحفظ اور معاملہ پر کسی جگہ بحث مباثہ سے بچنے کیلئے دو ساتھی ججز نے خود کو مقدمہ سے الگ کر لیا ،دونوں ججز کے انکار کیبعد بینچ تحلیل ہو گیا،مقدمہ سے وابستہ افراد کے اعتماد اورشفافیت کیلئے معاملہ پر فل کورٹ تشکیل دی جائے،معاملہ پرمناسب حکم کے لیے فائل چیف جسٹس کے روبرو پیش کی جائے۔۔۔۔توصیف