سپریم کورٹ نے سیالکوٹ میں دو حافظ قرآن بھائیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزائے موت کو دس سال قید میں تبدیل کر دیا

بدھ ستمبر 23:08

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے سیالکوٹ میں بھرے مجمع میں دو حافظ قرآن بھائیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزا ئے موت کودس سال قید میں تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں دوکہانیاں بنائی گئی ہیں پہلی ایف آئی آر میں چار زخمیوں کا ذکر ہے اور ازخود نوٹس لینے کے بعد درج ایف آئی آر میں مقتولین اور زخمیوں کے نام ہی شامل نہیں۔

(جاری ہے)

یادرہے کہ 2010ء میں سیالکوٹ میںمشتعل افراد نے دو حقیقی حافظ قرآ ن بھائیوں منیب اورمغیث کو بھرے بازارمیں باندھ کر قتل کر دیا تھا، جس کاسپریم کورٹ نے از خودنوٹس لیا تھا، ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے 7 ملزمان کو سزائے موت اور 6 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کیخلاف13 میں سے 12 ملزمان نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں دو کہانیاں بنائی گئی تھیں، ایک ایف آئی آر موقع پر جا کر پولیس نے درج کی جس کے مطابق چار افراد زخمی ہوئی.جن میں سے بلال اور ذیشان کی موت ہو گئی تھی جبکہ دوسری ایف آئی آر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پردرج ہوئی جس میںان چار افراد کا نام ہی نہیں اس طرح موقع سے دو پستول اور دس گولیاں بھی برآمد ہوئی تھیں.سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ لوگوں نے دو افراد کو ڈاکو ڈاکو کہہ کر ان پر حملہ کیا اور ان کو مار دیا.پوسٹ ماٹم میں بھی حملہ آوروں کو نا معلوم افراد لکھا گیا ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی زخمیوں کا نام نہیں لکھا گیا. چیف جسٹس کاکہناتھاکہ اس کیس میں وجہ عناد بھی نہیں بتائی گئی ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے کرکٹ گرائونڈ میں ان کا جھگڑا ہوا تھایہ پہلا واقعہ دیکھ رہا ہوں جہاں بغیر کسی وجہ کے لوگ پہلے سے مظاہرہ کر رہے تھی.لوگ کہتے ہیں کہ یہ ڈاکو ہیں اورپھر انہیں مارنا شروع کر دیتے ہیں. آخریہ کیسی کہانی بنائی گئی ہے،یہ کہانی بنا کر آپ سات بندوں کو پھانسی پرچڑھا رہے ہیں. چیف جسٹس نے کہاکہ سزا دینے کا اختیار صرف سٹیٹ کے پاس ہی.اگر لوگوں نے ڈاکوئوں کو پکڑ لیا تب بھی سزا کا اختیار ان کے پاس نہیں ہی. معاشرے کو تشدد کی اجازت بالکل نہیں دی جا سکتی، فاضل وکیل نے کہاکہ سزاتب بنتی ہے اگر ملزمان پر جرم ثابت ہو جائے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے واقعہ کی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کیا ہے حالانکہ وہ ویڈیو مسخ کی گئی تھی اس کا فرانزک بھی نہیں کرایا گیا تھا۔