بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت جموں وکشمیر اور آسام کے 4 ملین مسلمانوں کو بے وطن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، ان حالات میں پاکستان اور کشمیریوں کا ساتھ دینے پر ترک حکومت اور عوام کا مشکور ہوں، مودی نے اس مسئلے کو اس نہج پر پہنچایا ہے کہ پوری دنیا ان کے اس اقدام کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرر ہی ہے، آج کشمیر کو خاموش کروائے 45 روز ہوچکے ہیں، اس دوران کوئی نہیں جانتا کہ وہاں کیا کچھ ہورہا ہے اور ایسے ماحول میں لوگ کیسے رہ رہے ہیں اس خطے میں لاگو کئے گئے کرفیو کے نتیجہ میں 8 لاکھ افراد جیل میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں،پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن وہ ہر ممکنہ حملے کا منہ توڑ جواب دے گا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ترک نیوز ایجنسی اناطولیہ کو انٹرویو

بدھ ستمبر 23:50

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت جموں وکشمیر اور آسام کے 4 ملین ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 ستمبر2019ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت جموں وکشمیر اور آسام کے 4 ملین مسلمانوں کو بے وطن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، ان حالات میں پاکستان اور کشمیریوں کا ساتھ دینے پر وہ ترک حکومت اور عوام کے مشکور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترک نیوز ایجنسی اناطولیہ کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔

صدر مملکت نے حکومتِ جمہوریہ ترکی اور ترک عوام کا پاکستان اور کشمیر کی کھل کر حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اس مسئلے کو اس نہج پر پہنچایا ہے کہ پوری دنیا ان کے اس اقدام کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج (کل) کشمیر کو خاموش کروائے 45 روز ہوچکے ہیں، اس دوران کوئی نہیں جانتا کہ وہاں کیا کچھ ہورہا ہے اور ایسے ماحول میں لوگ کیسے رہ رہے ہیں اس خطے میں لاگو کئے گئے کرفیو کے نتیجہ میں 8 لاکھ افراد جیل میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن وہ ہر ممکنہ حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے ترکی اور پاکستان کی دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کئے جا سکتے ہیں، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے دہشت گرد تنظیم فیتو کے خلاف جدوجہد میں ترکی کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیم فیتو کے دہشت گردوں کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی خصوصی طور پر درخواست کی اور ہم نے ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے تمام مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور تمام سکولوں کو معارف ایجوکیشن فائونڈیشن کے حوالے کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے ترکی اس مسئلے سے بڑی حکمت سے نمٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام کی جانب سے اپنی حکومت کی مسلسل حمایت پر انہیں بڑی خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے ترک حکومت کی پشت پناہی کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر عوام حکومت کی پشت پر کھڑے ہوں تو کوئی بھی آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔