میری جماعت مذہب کو متنازعہ بنا کر دھرنے میں نہیں جائے گی

میں ذاتی طور مذہب کارڈ استعمال کرنے کے خلاف ہوں: رہنما ن لیگ خواجہ محمد آصف نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے دیا

muhammad ali محمد علی جمعرات ستمبر 00:06

میری جماعت مذہب کو متنازعہ بنا کر دھرنے میں نہیں جائے گی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2019ء) رہنما ن لیگ خواجہ محمد آصف نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے دیا، کہتے ہیں میری جماعت مذہب کو متنازعہ بنا کر دھرنے میں نہیں جائے گی میں ذاتی طور مذہب کارڈ استعمال کرنے کے خلاف ہوں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے جمیعت علمائے اسلام ف کے حکومت مخالف دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت مذہب کا استعمال کرکے حکومت کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے مذہب کا استعمال کرنے کے سخت مخالف ہے۔ ان کی رائے میں مذہب کا استعمال کر کے حکومت کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیئے۔

(جاری ہے)

ان کا خیال ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ ن مذہب کا غلط استعمال کر کے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہیں کرے گی۔

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی اگر حمایت بھی کی جائے گی تو وہ سیاسی مقاصد کی وجہ سے کی جائے گی۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت اور رہنما مذہب کے نام پر نفرت اور حملوں کا نشانہ بنے۔ احسن اقبال پر گولی چلائی گئی جبکہ مجھ پر سرعام سیاہی پھینکی گئی۔ ہمیں اندازہ ہے کہ مذہب کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کتنا خطرناک ہوتا ہے، اس لیے ہماری جانب سے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ ہمارا راستہ روکا گیا تو پورا ملک جام کردیں گے، پی ٹی آئی اورطاہرالقادری کادھرنا جائز حکومت اور ہمارا دھرنا ناجائز حکومت کے خلاف ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے ن لیگ سے مشاورت کی وجہ سے 16 سے 31 اکتوبرکے مابین دھرنے کا اعلان کریں گے۔ آزادی مارچ کیلئے قائم کمیٹیاں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ،مجلس عاملہ نے تمام کمیٹیوں کو جلد روابط مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ،آزادی مارچ کے روٹس کا تعین کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ،راستے کی مشکلات حل کرنے کیلئے مرکزی مانیٹرنگ سیل قائم کر رہے ہیں۔