سعودی تیل تنصیبات حملے نے گلوبل تیل سپلائی کو خطرے سے دوچار کر دیا،مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ ہنگامی بنیادوں پر سعودی عرب کے دورہ پر پہنچ گئے

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات ستمبر 04:55

سعودی تیل تنصیبات حملے نے گلوبل تیل سپلائی کو خطرے سے دوچار کر دیا،مائیک ..
لاہور۔  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2019ء)   ایسا تاثر مل رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جان بوجھ کر بڑھائی جا رہی ہے۔تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جن معاملات میں جو بڑے عالمی ٹھیکدار آغاز میں ہمدرد بنتے اور عسکری امداد دینے کو تیار ہو جاتے ہیں اصل میں وہ گیم شروع ہی انہی کی طرف سے کی گئی ہوتی ہے۔اس وقت سعودی عرب میں تیل تنصیبات کا جو وقوعہ ہوا ہے اس معاملے میں مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ لگتا ہے۔

بات بھی درست ہے کہ ابھی سعودی عرب کھل کر ایران کے خلاف میدان میں آنے کے لیے تیار نہیں لیکن امریکہ بہادر علی الاعلان حملے کی ذمہ داری ایران پر تھوپ چکا ے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر مائیک پومپیو کو بھی سعودی عرب روانہ کر دیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ہنگامی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے اور انہوں نے سعودی تنصیبات پر حملوں کو 'جنگی اقدام' قرار دیا۔

(جاری ہے)

امریکی وزیرخارجہ کا جدہ ائیرپورٹ پر سعودی ہم منصب ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبداللہ العصاف نے استقبال کیا۔امریکی وزیرخارجہ دورے میں سعودی رہنماؤں سے تیل تنصیبات پر حملے کے خلاف جوابی کارروائی پر تبادلہ خیال کریں گے جس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات جائیں گے۔جدہ پہنچنے پر مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات حملے نے گلوبل تیل سپلائی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ حملہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے نہیں کیا گیا، یہ ایرانی حملہ تھا جو ایک جنگی کارروائی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض خبروں کے برعکس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملے عراق کی جانب سے کیے گئے۔ یاد رہے کہ 14 ستمبر 2019 کو سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حملے کیے گئے تھے جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں۔

سعودیہ نے تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کردیے ان حملوں کی ذمہ داری یمن میں حکومت اور عرب عکسری اتحاد کے خلاف برسرپیکار حوثی باغیوں نے قبول کی تاہم امریکی صدر نے ٹوئٹس میں اشارہ دیا کہ امریکا جانتا ہے کہ یہ حملے کس نے کیے لیکن وہ سعودی عرب کے جواب کا انتظار کررہا ہے کہ وہ کسے ذمہ دار سمجھتا ہے۔