عمران خان اب ریاست مدینہ کو عملی طور پر چلانے کا وقت آن پہنچا ہے

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے،شاہد آفریدی کا مطالبہ

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات ستمبر 05:18

عمران خان اب ریاست مدینہ کو عملی طور پر چلانے کا وقت آن پہنچا ہے
لاہور۔  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2019ء)   اس دنیا کے غم جانے کب ہوں گے کم،ابھی ایک سانحہ کا درد کم نہیں ہوا ہوتا کہ دوسرا سانحہ بپا ہو جاتا ہے،کسی ایسے ہی دردناک موقعہ کے لیے منیر نیازی نے کہا تھا کہ ’مجھے ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر،میں ایک دریا کے پار اترا تو جانا،اس وقت ملک کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔اگرچہ حکمران ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر یہاں نہ تو انصاف ریاست مدینہ والا ہے اور نہ ہی مظلوموں کی دہائیوں پر والی مدینہ کی طرح ردعمل دیا جاتا ہے،نہ کشمیر میں چیختی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا جاتا ہے اور نہ دریائے سندھ کے کنارے بھوک سے مرتے بچے کو نوالہ دیا جاتا ہے،نہ کتے کے کاٹے سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والے بچے کے کواحقین کو دلاسہ دیا جاتا ہے اور نہ ساہیوال میں روڈ پر معصوم لوگوں کو گولیوں سے بھونے جانے والوں کوانصاف دیا جاتا ہے مگر دعویٰ پھر بھی ریاست مدینہ بنانے کا کرتے ہیں،مگر اب وزیراعظم پاکستان کے دوست اور مایہ ناز کرکٹر شاہد آفریدی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے وزیر اعظم عمران خان سے زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ 'اب عمران خان مدینہ کی ریاست کو چلانے کا وقت آپہنچا ہے، جو سندھ اور پنجاب میں ہورہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے'۔انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا نام لیے بغیر وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا کہ 'کیا پنجاب میں آپ کی ٹیم میں بہتر، تجربہ کار بندہ نہیں؟'ان کا کہنا تھا کہ 'مدینہ کی ریاست میں زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جاتی، وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا'۔

اپنی ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے قصور کا ہیش ٹیگ #Kasur استعمال کیا۔قصور میں والدین ایک مرتبہ پھر اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں جہاں ویڈیو اسکینڈل اور زینب قتل کیس کے بعد ایک مرتبہ پھر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔گزشتہ روز صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔قصور سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اغوا کیے گئے 3 بچوں کی لاشیں چونیاں کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔قتل کیے گئے دو بچوں کی باقیات اور ایک بچے کی لاش چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے ملیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔