پاکپتن کا اکلوتا ماڈل تھانہ ڈل وریام عوام کے لیے بھتہ خانہ بن گیا

ملزمان کے کھانے سے لے کر ملاقات تک بھتہ وصولی کی جا رہی ہے

جمعرات ستمبر 14:22

پاکپتن کا اکلوتا ماڈل تھانہ ڈل وریام عوام کے لیے بھتہ خانہ بن گیا
پاکپتن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،19ستمبر 2019ء، نمائندہ خصوصی،ممشاد فرید) پاکپتن کا اکلوتا ماڈل تھانہ ڈل وریام عوام کے لیے بھتہ خانہ بن گیا۔ اس اکلوتے ماڈل تھانے میں مبینہ طور پر کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ملزمان کے کھانے سے لے کر ملاقات تک کے لیے دھڑلے سے بھتہ وصولی کی جا رہی ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب کی طرف سے ماڈل تھانے کو ملنے والا ماہانہ سپیشل فنڈز 80 ہزار روپے بھی مبینہ طور پر کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔

ماڈل تھانہ میں پیشہ ورٹاؤٹ مافیا کا راج ہو چکا ہے۔ آئی جی پنجاب عارف نواز کے پولیس کو کرپشن سے پاک بنانے اور لوگوں کو پریشان نہ کرنے کے ویژن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاری ہے۔ تھانہ ڈل وریام میں جھوٹے مقدمات کے اندراج سے لے کر پھر اس کے اخراج تک کے ریٹ مقرر ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ تھانہ ڈل وریام کے علاقے میں پاکپتن ساہیوال روڈ پر پولیس ناکہ پر تعینات پولیس اہلکاروں اور رضاکاروں کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں سے سر عام نقدی وصولی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ان ناکوں پر تعینات اہلکاروں کو بغیر کچھ دیئے ناکے سے گزرنا محال ہو گیا ہے۔ شہریوں کی طرف سے ایس ایچ او تھانہ ڈل وریام مقبول احمد کے خلاف ڈی ایس پی صدر پاکپتن کو درخواست بھی دی گئی ہے۔ جس کے بعد ایس پی پاکپتن نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر سرکل پاکپتن چوہدری سعید احمد کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔