ضلع خیبر: وادی تیراہ کے 220 اساتذہ گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

اساتذہ کی باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس، حکومت کی جانب سے مستقل ملازمت نہ دینے تک تدریسی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

جمعرات ستمبر 16:36

ضلع خیبر: وادی تیراہ کے 220 اساتذہ گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم
ضلع خیبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،19ستمبر 2019ء، نمائندہ خصوصی،حُسین آفریدی) وادی تیراہ میں 27 پرائیوٹ سکولوں میں گزشتہ 6 مہینے سے 220 اساتذہ بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت جب تک ہمیں مستقل ملازمت نہیں دیتی تب تک ہم سکولوں میں پڑھانے سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ وادی تیراہ سکولز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری فضل بادشاہ کا باڑہ پریس کلب میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ میں 2013 کے سیکورٹی اپریشن کے بعد انتظامیہ نے ہم اساتذہ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ فوری طور پر سکولوں میں پڑھائی شروع کریں ہم آپ کو مستقل محکمہ تعلیم میں نوکری دیں گے۔

ہم نے ان کے وعدے پر تعلیمی خدمات شروع کی تاہم 6 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور بار بار حکام بالا کو درخواستیں دی ہیں لیکن تاحال نہ ہمیں مستقل کیا گیا اور نہ ہمارے مسئلے کو کوئی سنجیدگی سے لیتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عوام کی کمزور مالی حالت کی وجہ سے بچوں سے کوئی فیس نہیں لے رہے جبکہ عرصہ دراز سے بغیر تنخواہ کے ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تیراہ میں 27 پرائیوٹ سکولوں میں 220 اساتذہ 12 ہزار تک طلباء کو تعلیم دے رہے ہیں تاہم بائیکاٹ سے تمام طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑھ جائے گا اور تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تیراہ میں 36 سرکاری سکولز تعمیر ہو چکے ہیں جن میں صرف 7 اساتذہ ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ وادی تیراہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت یکم اکتوبر تک ہمارے مطالبات بارے عملی اقدامات نہیں کرتے تو طلباء، والدین اور قومی مشیران سمیت گورنر ہاوٴس اور وزیر اعلیٰ ہاوٴس کے سامنے احتجاجاً دھرنا دیں گے۔