رانا ثناءاللہ نواز شریف کے خلاف ہوجائیں تو کوئی بھی وزارت ان کی جھولی میں ڈال دی جائے گی

راناثںاءاللہ کی اہلیہ نے شوہر کو مشرف دور میں کی جانے والی پیشکش بتا دی،راناثناءاللہ سے جیل میں ہونے والے سلوک سے متعلق بھی اہم انکشافات کر دئیے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات ستمبر 17:22

رانا ثناءاللہ نواز شریف کے خلاف ہوجائیں تو کوئی بھی وزارت ان کی جھولی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 ستمبر 2019ء) معروف صحافی عمار مسعود کا اپنے حالیہ کالم میں کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما راناثناءاللہ کی اہلیہ نبیلہ ثناء ایک دبنگ خاتون ہیں۔وہ سیدھا عمران خان کو دھمکا رہی ہوتی ہیں۔میں ٹی وی پر اس خاتون کی جرات دیکھ کر حیران رہتا ہوں۔عمار مسعود نبیلہ ثناء سے ہونے والی گفتگو سے متعلق لکھتے ہیں کہ نبیلہ ثناء کی شادی 1987ء میں ہوئی،32 سالہ رفاقت میں انہوں نے راناثناءاللہ کی کئی گرفتاریاں دیکھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس دفعہ کی گرفتاری کی اطلاع تو ٹی وی کے ذریعے ملی۔نبیلہ ثناء نے کے لیے رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کوئی نئی بات نہیں تھی۔1999ء میں جب ایک ڈکٹیٹر نے ان کو گرفتار کر کے تشدد بنایا تھا انہیں وہ واقعہ بھی یاد ہے،وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت گرفتاری سے پہلے راناثناءاللہ پر بہت دباؤ ڈالا گیا تھا کہ نواز شریف کے خلاف ہو کر اگر ق لیگ میں شامل ہو جائیں تو پنجاب کی کوئی بھی وزارت آپکی جھولی میں ڈال دی جائے گی۔

(جاری ہے)

یہ بات کہنے چوہدری شجاعت حسین،چوہدری پرویز الہیٰ اور عجاز الحق ان کے گھر آئے لیکن رانا صاحب نے انکار کر دیا۔اس لیے جب مشرف دور میں انہیں گرفتار کیا جانا تھا تو فیصل آباد میں ایک کرفیو کا سماں تھا۔گرفتاری کے 15 دن تک ان کی کوئی خبر نہ ملی۔جب فیصل آباد کے لوگوں نے احتجاج کیا تو راناثناءاللہ کو لاہور کے قلعے میں رکھا گیا۔نبیلہ ثناء یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس دوران راناثناءاللہ پر شدید تشدد کیا گیا تھا جس وجہ سے رانا صاحب اب تک زمین پر نہیں بیٹھ سکتے لیکن اب سنا ہے کہ ان پر تشدد نہیں ہو ریا لیکن اذیت دینے کے لیے بستر نہیں دیا جا رہا اور بستر پر لیٹنے پر مجبور کیا جاتاہے۔

رانا صاحب پر پارٹی سے بے وفائی نہ کرنے کی وجہ سے تشدد کیا جاتا تھا۔عمار مسعود مزید لکھتے ہیں کہ نبیلہ ثناء کی ان باتوں کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ رانا صاحب کامیاب سیاستدان نہیں ہو سکتے،اگر وہ اپنی قیادت سے بے وفائی کرنے والے ہوتے تو آج پنجاب اسمبلی کے سپیکر یا ویر اعلیٰ ہوتے۔وفاق میں ہوتے تو وزیر اطلاعات،وزیر خارجہ یا پھر وزیر قانون ہوتے۔