پی آر اے کا اثرو رسوخ پارلیمنٹ پر بھی ہے جسے مزید وسعت دینگے ،اسد قیصر

جب بھی ٹربیونلز بنے گا اس میں آپ کی نمائندگی ہوگی اور قائمہ کمیٹی میں بھی پی آر اے کو نمائندگی دی جائیگی ،سب سے بنیادی چیز میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور صحافی دوست قانون بنے گا ،تمام جماعتوں کو صحیح معنوں میں الیکشن کرانا ہونگے ،جب ورکرز کو عزت نہیں ملے گی تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی ،نٹرا پارٹی الیکشن بھی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے چاہئیں ، خوشامد کرکے عہدے حاصل کرنا جمہوریت نہیں ہوتی، ہمیں اپنے نظام کو بدلنا ہوگا، تقریب سے خطاب

جمعرات ستمبر 17:34

پی آر اے کا اثرو رسوخ پارلیمنٹ پر بھی ہے جسے مزید وسعت دینگے ،اسد قیصر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2019ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاہے کہ پی آر اے کا اثرو رسوخ پارلیمنٹ پر بھی ہے جسے مزید وسعت دینگے ،جب بھی ٹربیونلز بنے گا اس میں آپ کی نمائندگی ہوگی اور قائمہ کمیٹی میں بھی پی آر اے کو نمائندگی دی جائیگی ،سب سے بنیادی چیز میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور صحافی دوست قانون بنے گا ،تمام جماعتوں کو صحیح معنوں میں الیکشن کرانا ہونگے ،جب ورکرز کو عزت نہیں ملے گی تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی ،نٹرا پارٹی الیکشن بھی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے چاہئیں ، خوشامد کرکے عہدے حاصل کرنا جمہوریت نہیں ہوتی، ہمیں اپنے نظام کو بدلنا ہوگا۔

جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پی آر اے حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی آر اے پریس کلبز سے بڑی آرگنائزیشن اور سب سے طاقت ور فورم ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پی آر اے کا اثرو رسوخ پارلیمنٹ پر بھی ہے جسے مزید وسعت دینگے ۔ انہوںنے کہاکہ جب بھی ٹربیونلز بنے گا اس میں آپ کی نمائندگی ہوگی اور قائمہ کمیٹی میں بھی پی آر اے کی نمائندگی ہوگی ،سب سے بنیادی چیز میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور صحافی دوست قانون بنے گا ۔

انہوںنے کہاکہ اس وقت پورے ملک کو معاشی صورتحال کا سامنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان جب سے بنا ہم حالت جنگ میں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ 48 سے لے کر نائن الیون تک ہم حالت جنگ کا شکار رہے اور بعد ازاں اس کے اثرات سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغان وار اور دہشتگردی کی جنگ نے تباہی مچادی جس نے ہمارے تمام شعبہ زندگی کو متاثر کیا ۔

انہوںنے کہاکہ امریکہ کا مفاد افغانستان میں تھا اور جب مفاد ختم ہوگیا تو چھوڑ دیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہماری قربانیوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا ۔انہوںنے کہاکہ سیاسی استحکام بھی اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے، ہم اس وقت ٹرانزیشن پیریڈ سے گزر رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر ہماری حکومت نے کارکردگی نہ دکھائی گئی تو وہ بھی نہیں چل سکتی ۔ انہوںنے کہاکہ جب ورکرز کو عزت نہیں ملے گی تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی ،تمام جماعتوں کو صحیح معنوں میں الیکشن کرانا ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ انٹرا پارٹی الیکشن بھی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ خوشامد کرکے عہدے حاصل کرنا جمہوریت نہیں ہوتی، ہمیں اپنے نظام کو بدلنا ہوگا