سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں عمرقید کی سزا پانے والے ملزم کو بری کردیا

جمعرات ستمبر 18:35

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں عمرقید کی سزا پانے والے افضل ملک نامی ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے اور کہا ہے کہ ملزم سے گولہ بارود برآمد ہونے کے باوجود کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا، اتنا بڑا دہشت گرد پکڑ لیا گیا جو سرکار کی نااہلی کی وجہ سے بری ہو رہا ہے۔ جمعرات کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد سے ویڈیولنک کے ذریعے کیس کی سماعت کی۔

یادرہے کہ 2013ء میں افضل ملک نامی شخص کو دہشت گردی کے الزام میں پشاور سے گرفتار کر لیا گیا تھا،جس کے بعد اس کی رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم افضل ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے پراسیکوٹر نے عدالت کوبتایاکہ گرفتاری کے بعدپولیس نے ملزم کی رہائش گاہ پر ریڈ کر کے وہاں سے ساری چیزیں برآمد کی تھیں تاہم وکیل صفائی نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ برآمد کئے جانے والے بارودی مواد کا تعلق ملزم کے ساتھ ثابت نہیں ہوسکا۔

جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ملزم سے گولہ بارود، ڈیوائسز، ہینڈ گرنیڈ، ریموٹ کنٹرول، خودکش جیکٹ اور دیگر بارودی مواد برآمد کیا گیا تھا، اتنا بڑا دہشت گرد پکڑا گیا تھا لیکن آج وہ سرکا رکی نااہلی کی وجہ سے بری ہو رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ گولہ بارود برآمد ہونے کے باوجود سرکار کی نااہلی کے باعث ملزم کیخلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا، جوبارودی مواد برآمد کیا گیاتھا اسے فوری طور پر سیل نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے اسے ثابت نہیں کیاجاسکا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ اس کیس میں برآمد کردہ بارودی مواد کو 19روز بعد متعلقہ پولیس سٹیشن کے محرر کے حوالے کیا گیا، جوغفلت کی انتہاء ہے۔