سندھ ہائیکورٹ میں کے پی ٹی کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی میں کرپشن کا معاملہ،عدالت نے ریفرنس دائر کرکے 4 اکتوبر کو رپورٹ طلب کرلی

جمعرات ستمبر 19:53

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2019ء) سندھ ہائیکورٹ میں کے پی ٹی کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی میں کرپشن کا معاملہ،عدالت نے ریفرنس دائر کرکے 4 اکتوبر کو رپورٹ طلب کرلی۔

(جاری ہے)

سندھ ہائی کورٹ میں کے پی ٹی کوآپریٹو ہاسنگ سوسائٹی کرپشن کیس سے متعلق سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ نیب نے ن لیگ سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل اور دیگر کے خلاف ضمنی ریفرنس منظور کرلیا ہے تفتشی افسر کا کہنا تھا کہ ریفرنس احتساب عدالت ایک دو روز میں پیش کردیا جائے گا، جس پر عدالت نے ریفرنس دائر کرکے 4 اکتوبر کو رپورٹ طلب کرلی ملزم جاوید مخدوم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں کچھ اور شریک ملزمان کی ضمانت مین توثیق کی گئی ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ ایجنٹس کی شرائط پر ضمانت میں توثیق کی گئی تھی، اگر وہ شرائط اس ملزم کو بھی منظور ہیں تو ابھی دلائل سن لیتے ہیں،ملزم کے وکیل کا کہنا تھا ملزم جاوید مخدوم اسیٹ ایجنٹ تھا اس کا پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے تعلق نہیں ہے، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس مین کہا کہ کیا بات کررہے ہیں، ملک میں ہر غلط کام اور برائی کے پیچھے کوئی نہ کوئی اسٹیٹ ایجنٹ ہی ہوتا ہے،اصل ملزمان کی تو کوئی شکل بھی نہیں جانتا، اسٹیٹ ایجنٹ ہی سودے کرتے ہیں،نیب کا کہنا تھا کہ کے پی ٹی کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی میں انتہائی کم قمت پر غیر قانونی طور پر16 پلاٹس الاٹ کیئے گئے،کامران مائیکل نے تین کمرشل پلاٹس کی الاٹمنٹ پر گیارہ کروڑ روپے رشوت لی۔