حکومت نے سابقہ دور کے مہنگے قرضوں کی مد میں 2ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں : ہمایوں اختر خان

جمعرات ستمبر 22:16

حکومت نے سابقہ دور کے مہنگے قرضوں کی مد میں 2ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2019ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے واویلے اور بے بنیاد پراپیگنڈے سے مرعوب ہو کر احتساب کے جاری عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی ،موجودہ حکومت نے سابقہ دور کے مہنگے قرضوں کی مد میں 2ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں ،پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد نے معیشت کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات پر اطمینا ن کا اظہار کیا ہے ۔

اپنے ایک بیان میں ا نہوں نے کہا کہ حکومت کو سابقہ ادوار کے حکمرانوں کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ۔ ہمیں قرضوں سے چھٹکارا اور اپنے وسائل پیدا کرنا ہوں گے اور تاریخ میںیہ پہلی حکومت ہے جو اس جانب عملی پیشرفت کر رہی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی والے اربوں روپے کے کرپشن سکینڈلز سامنے آنے کو ہی کامیابی اور ترقی سمجھتے ہیں تو ایسی ترقی کا دور اب کبھی واپس نہیں آئے گا اور سابقہ ادوار میں یہی ترقی کا معیار مقرر کیا گیا تھا۔

حکومت اپوزیشن کے واویلے او ر بے بنیاد پراپیگنڈے سے مرعوب ہو کر احتساب کے جاری عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ یہ معاملات احتساب اور انصاف کے اداروں کے ہیں اوروہی اس کے فیصلے کریں گے اور حکومت کا واضح موقف ہے کہ ان اداروں پر دبائو ڈالنے کے حربوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ جلد مرکزی بینک ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی کی طرف جائے گا جس سے مینو فیکچرنگ گروتھ میں اضافہ ہوگا او ر آمدنی بہتر ہو گی ۔

حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے نان ٹیکس آمدن بھی بڑھے گی اور اگر ٹیکس آمدنی میں کوئی کمی ہوئی تو اسے اس سے پوری کیا جا سکے گا ۔ انہوںنے کہا کہ مشینری کی امپورٹ بڑھنا مینو فیکچرننگ کی ترقی کے اشارے ہیں جس سے مجموعی طو رپر معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔