صوبے میں ناانصافیوں قتل و غارت گری ظلم و ستم کے خاتمے کیلئے یہاں کے باشعور عوام ہمارا ساتھ دیکر سیاسی انداز میں باشعور ہونے کا عملی ثبوت دیں،بلوچستان نیشنل پارٹی

جمعرات ستمبر 22:37

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2019ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمائوں نے کہا ہے کہ صوبے میں ناانصافیوں قتل و غارت گری ظلم و ستم کے خاتمے کیلئے یہاں کے باشعور عوام ہمارا ساتھ دیکر سیاسی انداز میں باشعور ہونے کا عملی ثبوت دیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان میں آباد اقوام کو پسماندہ رکھنے دست و گریبان کرنے اور زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کا بنیادی سبب یہاں کے لوگوں کو غیر ضروری اور نام نہاد پیدا کردہ مصنوعی بحرانوں اور الجھنوں میں پسا کر استحصالی قوتیں اپنے آمرانہ پالیسیوں کو تقویت دینا چاہتے ہیں بی این پی یہاں کے عوام کا ہر سطح پر ان کے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ترقی و خوشحالی روزگار کے حصول کیلئے آواز بلند کرینگے اور اس کی پاداش میں کسی قسم کی قربانی وجدوجہد سے دریغ نہیں کرینگے 22ستمبر کے کوئٹہ میں منعقدہ ہونے والا جلسہ سیاسی طور پر ایک نیا تاریخ رقم کریگا جو شہید نواب امان اللہ خان زہری ان کے کمسن پوتے شہید میر مردان زہری ان کے دیگر ساتھیوں شہید میر سکندر گورشارنی ، شہید مشرف زہری کے قومی تحریک کیلئے لازوال قربانیوں کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اور اس سانحے میں ملوث قاتلوں کی گرفتاری کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری، ضلعی صدر و رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری آغا خالد شاہ دلسوز ، ضلعی نائب صدر طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ، ضلعی جوائنٹ سیکرٹری حاجی غفور سرپرہ ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات یونس بلوچ، میر الطاف شاہوانی ، سکندر شاہوانی ، حاجی منصور بلوچ، ملک شاہد شاہوانی اور میر لیاقت شاہوانی نے بی این پی کوئٹہ کے زیر اہتمام تنظیم کاری کے سلسلے میں خالد شاہوانی اسٹریٹ چکل میاں خان اور کلی میر سکندر شاہوانی اتفاق اسٹریٹ کیچی بیگ میں نئے یونٹوں کے قیام کے موقع پر منعقدہ کارنر میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سابق ضلعی سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی نے سرانجام دیئے اس موقع پر نئے یونٹوں کے عہدیداروں کا چنائو کا قیام عمل میں لایا گیا اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست و جدوجہد کا محور و مقصد بلوچستان کی جغرافیائی اور اس کی حفاظت ساحل وسائل پر اپنا واحق و اختیار حق احاکمیت کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے ہیں اور اس مقصد کیلئے ہمارے پارٹی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ رہنمائوں اور نہتے کارکنان گذشتہ کئی عشروں سے سابق آمریت کے دور سے لیکر آج کے نام نہاد جمہوری دور حکومتوں میں بلوچستان اور بلوچ قومی اجتماعی آئینی اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے اپنے حصولی موقف پر کار بند جدوجہد اور قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں ہم ترقی و خوشحالی کی ہرگز مخالف نہیں ہیں اور اکسیویں صدی ترقی وخوشحالی فلاح و بہبود علم ٹیکنالوجی اور شعور کا صدی ہے اس صدی میں کوئی ذی شعور انسان دور جدید کی ترقی یافتہ دور سے کسی بھی صورت میں فوائد حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے لیکن ماضی میں بلوچستان میں شروع کئے گئے ترقی کے نام پر جن منصوبوں کو شروع کیا گیا اور وہ آج منصوبے اپنے اختتام کو پہنچنے ہیں لیکن ان کے قیام سے لیکر خاتمے تک یہاں کے عوام کی غربت پسماندگی جہالت استحصال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دنیا کی تمام معدنیات موجود ہونے والے خطے کے فرزند اور 750کلومیٹر بحر ہ کے حقیقی مالک آج دو وقت کی روٹی سے محروم نان شبینہ کا محتاج دربدر کی ٹھوکریں کھاکر بدترین استحصال کا شکار اپنے وطن کے وسائل سے انھیں کوئی اختیار نہیں ہیں مقررین نے کہا کہ ہمارا یہ سیاسی مطالبہ دنیا کے تمام اصولوںملکی قوانین اور انسانی حق دار کے عین مطابق ہیں۔

(جاری ہے)

اور ہم نے کبھی بھی ایسا کوئی غیر آئینی و غیر جمہوری غیر انسانی مطالبہ اور ڈیمانڈ نہیں کیا ہے جوکہ ملکی قوانین اور انسانیت کے خلاف ہو مقررین نے کہا کہ آج دنیا اور ملک کی ملٹی نیشنل کمیپنیوں اور حکومتوں کے نظریں ہماری سرزمین کے وساحل پر مرکوز ہیں کیونکہ آج دنیا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جس معاشی منڈی بحران کا شکار اوربڑھتی ہوئی آبادی کے نتیجے میں بحران کا شکار ہیں وہ اپنے معیشت اقتصادیت کو سہارادینے کیلئے یہاں کے وسائل پر نظریں جمع کے ہوئے ہیں اور اپنے بڑھتی ہوئی آبادی کو شفٹ کرنے کیلئے ہمارے خطے کی وسائل کو لوٹنا چاہتے ہیں اور ہمیں اپنے مادر وطن پر بے دخل کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں اس خطے میں ایک ڈیمو گرافک تبدیلی آئے گی بلوچ قوم جو ہزاروں سالوں کی ایک تاریخ تہذیب و تمدن شناخت اور وجود رکھتے ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی شناخت وجود بقاء اور سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے ہر سازشی ہتھکنڈوں کے خلاف ہمیشہ حساس رہے ہیں بلوچ عوام اپنے قومی تشخص اور سرزمین کی حفاظت کے خلاف کسی قسم کی زیادتی اور ناانصافی برداشت نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ بی این پی وہ واحد قوم وطن دوست یہاں کے عوام کے حقوق کی نمائندہ جماعت ہے جنہوں نے ہمیشہ صوبے کے اجتماعی قومی مفادات کو اولیت دی اور اقتدار کے بجائے اقدار کو فروغ کیلئے ایک مثالی کردار رقم کیا ہے جس کی واضح مثال موجودہ مرکزی حکومت میں شرکات اقتدار کے بجائے ذاتی گروہی پارٹی مفادات کو رد کرتے ہوئے بلوچستان کے چھ نکاتی دیرینہ مسائل کو ترجیح دی اگر پارٹی کو یہاں کے لوگوں اور صوبے کی مفادات کے بجائے ذاتی اور گروہی مفادات عزیز ہوتے تو آج پارٹی مرکز اور صوبے میں وزارتوں مراتوں پر براجمان ہوتے لیکن ہم ایسے اقتدار چاہتے ہیں جس کے پاس ہمیں اپنے صوبے کی ساحل وساحل پر واحق و اختیار ہو اور اپنے لوگوں کی تقدیر بدلنے کا مکمل دسترس ہمارے ساتھ ہو جس طرح نیپ کے پہلے حکومت سردار عطاء اللہ خان مینگل کی قیادت میں شہید نواب اکبر خان بگٹی اور سردار اختر جان مینگل نے جو مختصر مدتوں میں حکومتیں کی ہیں آج بھی بلوچستانی عوام صوبے کی تاریخ میں ان تینوں ادوار کے حکومتوں کو لسانی قرار دیکر یاد کرتے ہیں جنہوں نے مرکز کے ساتھ صوبے کی مفادات پر کبھی بھی سودہ بازی نہیں کیا اور آج بھی وہ اپنے لوگوں کے سامنے سرخرو ہیں اس موقع پر ان دونوں یونٹوں کے الیکشن کرانے کیلئے ضلعی جنرل سیکرٹری آغا خالد شاہ دلسوز کی سربراہی میں ضلعی سیکرٹری جوائنٹ سیکرٹری میر غفور سرپرہ اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات یونس بلوچ نے یونٹ کے الیکشن کروائے، خالد شاہوانی اسٹریٹ چکل میاں خان یونٹ کے یونٹ سیکرٹری کیلئے میر لیاقت شاہوانی ، ڈپٹی یونٹ سیکرٹری کیلئے حاجی منصور شاہوانی ، ضلعی کونسلران کیلئے میر الطاف شاہوانی اور جلیل احمد شاہوانی ، جبکہ میر سکندر شاہوانی اسٹریٹ کیلئے میر سرفراز شاہوانی یونٹ سیکرٹری ، مرتضی بلوچ ڈپٹی یونٹ سیکرٹری کونسلران کیلئے لالا حنیف شاہوانی اور میر سکندر شاہوانی ضلعی کونسلران منتخب ہوئے پارٹی رہنمائوں نے نئے منتخب ہونے والے عہدیداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ پارٹی کو فعال اور متحرک بنانے اور علاقے میں پارٹی کا پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور اپنے جملہ توانائیوں کو پارٹی کو تنظیمی طور پر مضبوط کرنے کیلئے صرف کرینگے ۔