سب سے زیادہ کرپشن پٹواری نظام میں ہے ،اسے جدید بنانا ہوگا ،سپریم کورٹ

پٹواریوں کے اختیارات سے متعلق نظرثانی درخواستوںپر سماعت، عدالت عظمیٰ نے وفاق اور صوبوں کو نوٹس جاری کر تے ہوئے جواب طلب کرلیا

جمعرات ستمبر 23:07

سب سے زیادہ کرپشن پٹواری نظام میں ہے ،اسے جدید بنانا ہوگا ،سپریم کورٹ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے شہری علاقوں میں پٹواریوں‘ قانون گو اور تحصیلداروں کے اختیارات سے متعلق نظرثانی درخواستوںپر سماعت کی‘ عدالت نے وفاق اور صوبوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ معاملہ کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پٹواری فرد جاری نہیں کر رہے۔

فرد نہ ملنے سے رجسٹری نہیں ہوتی جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پٹواری ایک فرد کے اجراء کے دس دس لاکھ روپے مانگ لیتے ہیں۔ اس لئے عدالت نے شہری علاقوں میں پٹوار خانے ختم کرنے کا فیصلہ دیا اور زمین کی خرید و فروخت رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے کرنے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

جسٹس عمر عطاء بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ شہری علاقوں میں پراپرٹی رکھنے والوں کو قانونی تحفظ درکار ہے۔

سب سے زیادہ کرپشن پٹواریوں کے نظام میں ہے۔ پٹواریوں کا نظام جدید طرز پر بنانا چاہئے۔ اسلام آباد سمیت ملک بھر کے شہری علاقوںمیں پٹواریوں نے لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ نیب کے زیادہ تر کیسز پٹواریوں سے متعلق ہیں۔ عدالت نے تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو اپنے صوبائی قانون کے مطابق جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی ہے۔