Live Updates

مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے، اعتزاز احسن

مولانا فضل الرحمان مذہبی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپنے جلسوں میں بھی مذہبی ایشو ہی اٹھائے،حکومت کا جانا چاہیے ،بلاول بھٹو نے دسمبر تک حکومت کووقت دیا،لیکن حکومت کے پاس اصلاح کا ابھی موقع ہے۔پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اعتزازاحسن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات ستمبر 21:52

مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے، اعتزاز احسن
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 ستمبر2019ء) پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اور سینئر قانون دان اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ میرا نہیں خیال جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے، جمہوریت کو خطرہ ہوا توہم جمہوریت کے ساتھ ہوں گے،مولانا فضل الرحمان مذہبی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپنے جلسوں میں بھی مذہبی ایشو ہی اٹھائے،حکومت کا جانا چاہیے ،بلاول بھٹو نے دسمبر تک حکومت کووقت دیا،لیکن حکومت کے پاس اصلاح کا ابھی موقع ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے وارث بیٹے نہیں وہ توبھگوڑے ہیں، ان کو چاہیے تھا کہ پاکستان آتے ، والد اور بہن کو بچاتے۔مریم نوازنے جتنی سیاست کی دلیری کے ساتھ کی،نوازشریف کے بیٹوں کو چاہیے تھا کہ پاکستان آتے ، والد اور بہن کو بچاتے،لیکن مریم نواز خاتون ہوکرکٹھن حالات میں دلیری سے سیاست کررہی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مریم نوازکہہ چکی ہیں ان کے پاس اوربھی ویڈیو ٹیپ ہیں،اگر ڈیل ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب مریم نواز کے پاس کسی بڑی شخصیت کی ٹیپ ہے،ڈیل ہوگئی تو لوگ کہیں گے بلیک میل کرکے ڈیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ڈیل کے موڈ میں نہیں ہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکے کہ ڈیل نہیں ہوگی۔اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو ثبوت ٹاک شوز اور پریس کانفرنسز میں نہیں دینے چاہئیں۔

نوازشریف سے بھی یہی غلطیاں ہوئیں کہ ڈیفنس کو محفوظ نہیں رکھا بلکہ ٹاک شوز اور پریس کانفرنسز میں سارے ثبوت بتا دیے۔نوازشریف کو کوئی جلدی نہیں ہے۔ ویڈیوز نوازشریف کے پاس جیل سیل کی چابی تھی۔ اگر وہ چاہتے تھے تودواڑھائی مہینے پہلے چابی گھوم گئی ہوتی اور وہ جیل سے باہر ہوتے۔ویڈیوز کی چابی تالے میں لگائی جانی چاہیے۔جو فرانزک رپورٹس باہر سے لے رہے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی خبریں مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں۔ گرفتاری سے سندھ حکومت معطل ہوکررہ جائے گی۔اگر ان کو گرفتار کیا گیا تو پیپلزپارٹی کہہ چکی ہے کہ ان کو ہٹایا نہیں جایا گا، جس کے باعث جیل میں ہی کابینہ کے اجلاس ہوا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا جانا چاہیے پارٹی کی پالیسی ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ دسمبر تک حکومت نہ گئی تو میدان عمل میں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان مذہبی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپنے جلسوں میں بھی ذہبی ایشو ہی اٹھائے۔پی ٹی آئی حکومت سے مس مینجمنٹ ہورہی ہے۔حکومت مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کو اپنے خلاف کررہی ہے، جبکہ حکومت کے پاس اصلاح کا ابھی موقع ہے۔میرا نہیں خیال جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے، اگر جمہوریت کو خطرہ ہوا توپیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
وزیراعظم کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے متعلق تازہ ترین معلومات