پنجاب اسمبلی اجلاس، مسودہ قانون تنازعات کا متبادل حل پنجاب بل کثرت رائے سے منظور

اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد‘ میانوالی یونیورسٹی سمیت4 آرڈیننس ایوان میں پیش

جمعرات ستمبر 22:15

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2019ء) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسودہ قانون تنازعات کا متبادل حل پنجاب 2019ء بل کثرت رائے سے منظور ‘ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد‘ میانوالی یونیورسٹی سمیت 4 آرڈیننس ایوان میں پیش‘ متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا‘ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک روزہ وقفہ کے بعد جمعرات کے روز سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت شروع ہوا‘ اجلاس میں محکمہ ریونیو اینڈ کالونیز(بورڈ آف ریونیو) کے متعلقہ سوالات پوچھے گئے جن کے متعلقہ وزراء نے جوابات دیئے‘ اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے ہسپتالوں میں کینسر کی ادویات ختم ہونے کے باعث احتجاج کیا جس پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ حکومت ہر معاملے کے حوالے سے باخبر ہے ، یہ ایشو بہت جلد حل کرلیا جائیگا‘ اپوزیشن رکن شیخ علائو الدین نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے حلقہ چونیاں میں معصوم بچوں کے اغواء اور قتل کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے علاقہ میں نہ صرف خوف و ہراس ہے بلکہ عوام سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں جن کا کوئی پرساں حال نہ ہے‘ گزشتہ روز جب ہجوم نے تھانہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو آئی جی پنجاب نے مجھے فون کرکے وہاں پہنچنے کی ہدایت کی‘ انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن رکن ہونے کے ناطے وہاں جا کر حکومت کا دفاع کیا اور مظاہرین کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا تاہم شرپسند عناصر نے میرے پٹرول پمپ اور میری جائیداد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جبکہ میرے بار بار بلانے پر پولیس وہاں نہ پہنچی ،اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے شیخ علائو الدین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ذمہ دار شہری اور منتخب نمائندہ ہونے کا حق ادا کیا ،اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچائیں، اگر پولیس بروقت ایکشن لے لیتی تو آج یہ سانحہ رونما نہ ہوتا‘ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ شیخ علائو الدین کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ قابل افسوس ہے تاہم چونیاں ان کا حلقہ ہے اور عوامی ردعمل کو یہ بہتر طو ر پر سمجھ سکتے ہیں، ان کے مخالفین نے کوئی حرکت کی ہو تو کچھ کہا نہیں جاسکتا ،تاہم حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہ ہے‘ گزشتہ روز میں خود وہاں گیا اور متاثرین کو یقین دلایا کہ انہیں ہر صورت انصاف ملے گا‘ اپوزیشن رکن رانا مشہود نے کہا کہ اس وقت کشمیر کا مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ، ہم سب کو کشمیر کے ایشو پر متفقہ بات کرنی چاہئے تاکہ ایوان سے ایک پیغام جائے‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی غیر موجودگی میں ایوان نہیں چل سکتا اور ہمارے بار بار مطالبے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کیلئے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کئے گئے جس پر اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا‘ اس دوران سپیکر کی جانب سے نماز کیلئے 15 منٹ کا وقفہ دیا گیا‘ دوبارہ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن رکن نے کورم کی نشاندہی کر دی‘ کورم پورا نہ ہونے تک پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا گیا، اس دوران اپوزیشن رکن خلیل طاہر سندھو نے مطالبہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کیمپس پل جو پروفیسر وارث میر کے نام سے منسوب تھا کو ختم کرکے اسے کشمیر انڈر پاس کا نام دیا گیا ہے جو ایک نامور شخصیت کے ساتھ زیادتی ہے، اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ وارث میر کا صحافت میں ایک اپنا مقام ہے، یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ وہ حامد میر کے والد ہیں تاہم بحیثیت استاد ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، حکومت سے دربارہ د رخواست ہے کہ وارث میر کے انڈر پاس کو دوبارہ بحال کیا جائے‘ سرکاری کارروائی میں صوبائی وزیر راجہ بشارت نے آرڈیننس میانوالی یونیورسٹی 2019ء‘ آرڈیننس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پنجاب 2019ء‘ آرڈیننس (ریفارمز) میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز پنجاب 2019ء اور آرڈیننس پروبیشن اینڈ پے رول سروس 2019ء ایوان میں پیش کئے جنہیں متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے کر دیا گیا اور دو ماہ میں رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا پابند کیا گیا‘ صوبائی وزیر قانون نے مسودہ قانون تنازعات کا متبادل حل پنجاب 2019ء (مسودہ قانون نمبر 13 بات 2019ئ) اے ڈی آر بل پیش کیا جو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تاہم اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں، ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس اگلے روز کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔