ہم وزیراعظم عمران خان کے بیان ’’اگر کوئی پاکستان سے کشمیر میں داخل ہوا تو وہ کشمیریوں کا دشمن ہوگا‘‘ سے اتفاق کرتے ہیں، یہ بیان قابلِ تعریف ہے: امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

امن و استحکام لانے کی خاطر تمام دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان پرعظم ہے اور ہم اس سے متفق ہیں: امریکی محکمہ خارجہ کا بیان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعہ ستمبر 00:29

ہم وزیراعظم عمران خان کے بیان ’’اگر کوئی پاکستان سے کشمیر میں داخل ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 ستمبر 2019ء) امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے وزیراعظم عمران خان کے بیان ’’اگر کوئی پاکستان سے کشمیر میں داخل ہوا تو وہ کشمیریوں کا دشمن ہوگا‘‘ سے اتفاق کرتے ہوئے اس بیان کی تعریف کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو لوگ پاکستان سے کشمیر میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے کشمیر اور پاکستان کے دشمن ہوں گے۔

ہم اس سے متفق ہیں اور اس پر وزیراعظم عمران کان کی تعریف کرتے ہیں۔ امن و استحکام لانے کی خاطر تمام دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان پرعظم ہے‘‘۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر کوئی پاکستان سے کشمیر میں داخل ہوا تو وہ کشمیریوں کا دشمن ہوگا اس سے بھارت کو موقع ملے گا، وہ کہے گا پاکستان سے دہشت گرد داخل ہوئے، جنرل اسمبلی میں کشمیر کا کیس لڑوں گا، جب تک بھارت کشمیر میں کرفیو نہیں ہٹاتا اور آرٹیکل 370 کو واپس نہیں لیتا کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے پاکستان کیا کشمیریوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ ایسے اقدام کا بھارت بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ اگر اس وقت کوئی کشمیر میں داخل ہوتا ہے تو وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا۔ ایسے کسی بھی اقدام کو بھارت دہشت گردی کا واقعہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور یوں کشمیریوں کا کیس کمزور ہو جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں لڑوں گا۔ جب تک بھارت کشمیر میں کرفیو نہیں ہٹاتا اور آرٹیکل 370 کو واپس نہیں لیتا تب تک مودی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔