سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کا فیصلہ آئندہ مالی سال تک موخر ہونے کا امکان

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر60سے 63سال کرنے کااعلامیہ تاحال جاری نہیں کیا جا سکا، وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کے لئے تجاویز اور رپورٹ تیار کرنے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے تاحال اپنا کام مکمل نہیں کیا

جمعہ ستمبر 00:36

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کا فیصلہ آئندہ مالی سال تک ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2019ء) سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کا فیصلہ آئندہ مالی سال تک موخر ہونے کا امکان، سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر60سے 63سال کرنے کااعلامیہ تاحال جاری نہیں کیا جا سکا، وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کے لئے تجاویز اور رپورٹ تیار کرنے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے تاحال اپنا کام مکمل نہیں کیا۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کا فیصلہ آئندہ مالی سال تک موخر ہونے کا امکان ہے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر60سے 63سال کرنے کااعلامیہ تاحال جاری نہیں کیا ہے جس کے بعد ساٹھ سالہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی رک چکی ہیں وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کے لئے تجاویز اورپورٹ تیار کرنے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی تھی کمیٹی نے وزیر اعظم سے کمیٹی کی مدت میں توسیع کی درخواست کر دی ہے کمیٹی نے تین ہفتے میں اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرنی تھی کمیٹی کے چیئر مین مشیر ادار ہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین تھے تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیٹی کا صرف ایک اجلاس ہوا ہے وفاقی سیکرٹریوں کی مصروفیت کے باعث اجلاس نہیں ہوا کمیٹی تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کی تجاویز قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کی رپورٹ دینی ہے کمیٹی کی جانب سے تجویز پنجاب ، وفاقی محکموں کے ملازمین وغیرہ کے لئے ہو گی تاہم کمیٹی کی رپورٹ چاروں صوبوں کے ملازمین کے لئے بھی ممکنہ طور پر ہو گی کمیٹی نے وزیر اعظم سے کمیٹی کی مدت میں توسیع کی درخواست بھی کر دی ہے اوران کی منظوری کے بعد کمیٹی کی مدت میں توسیع کی جائیگی ۔

متعلقہ عنوان :