جعلی کرنسی مارکیٹ میں چلانے والوں کی اب خیر نہیں

مصنوعی ذہانت نے ایف بی آر کے کام میں معاونت شروع کر دی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ ستمبر 05:43

جعلی کرنسی مارکیٹ میں چلانے والوں کی اب خیر نہیں
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2019ء)   ایف بی آر میں کئی اصلاحات موجودہ حکومت نے کی ہیں جس کا مقصد شفافیت کو برقرار رکھنااور چوری چکاری سے ممکنہ حد تک بچنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس محکمے نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا بھی لے لیا ہے۔پہلے پہل فراڈ کرنے والے لوگ جعلی کرنسی کے ذریعے خوب لوٹ مار مچایا جرتے تھے مگر اب ان کا راستہ ایف بی آر نے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔

ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ زندگی ہی آسان ہو گئی ہے اور جب سے مصنوعی ذہانت میدان میں آئی ہے اس نے تو لوگوں کے سبھی مشکل کام ہی آسان کر لیے ہیں۔اب یہ مصنوعی ذہانت ہی اصل ذہانت کا کام ادا کرے گی اور دھوکہ اور فراڈ کرنے والے لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے میں مدد دے گی۔اسی ٹیکنالوجی کو ایف بی آر نے بھی خوش آمدید کہا ہے کیونکہ وہ اسمگلنگ اور جعلی نوٹ مارکیٹ میں پھینکنے والوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

(جاری ہے)

ایف بی آر بھی جدید ٹیکنالوجی پر منتقل ہوگیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی نوٹ، جعلی چیک اور پے آرڈرز آسانی سے پکڑے جاسکیں گے۔کراچی کے ایکسپو سینٹر میں انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے میلے میں جدید مشینیں پیش کی گئیں۔نجی کمپنی کی جانب سے جدید مشینیں متعارف کروادی گئی ہیں جو جعلسازی کو پکڑنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔ یہ مشینیں بینکوں میں نصب کرنے کا کام جاری ہے۔

اس کے علاوہ، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن بھی مزید آسان بنادی ہے۔موبائل ایپ کی مدد سے اب تنخواہ دار اپنے انکم ٹیکس گواشورے جمع کراسکیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ اس  جدید ٹیکنالوجی  کی مدد سےایف بی آر کا کام کس قدر آسان ہوتا ہےا ور کیا اس سے جرائم میں کمی واقع ہو گی یا پھر یہ بھی پہلے کے نظام کی طرح ایک اور بوجھ ملکی معشیت پر ثابت ہو گی۔