سی پیک منصوبہ ختم،آئی ایم ایف کی شرائط پرعملدرآمد شروع

امریکہ کی خوشنودی کے لیے پاکستانی مفاد پسِ پشت ڈال دیا گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ ستمبر 05:54

سی پیک منصوبہ ختم،آئی ایم ایف کی شرائط پرعملدرآمد شروع
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2019ء)   جب پی ٹی آئی کی حکومت وجود میں آئی تھی تو سب سے پہلے عمران خان نے ٹرمپ کے ساتھ ٹویٹ ٹویٹ کھیل کر خوب داد سمیٹی تھی۔مگر ایسا کیا ہوا کہ ٹرمپ صاحب نے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے ا ور انہیں دورہ امریکہ کی پیشکش کر دی اور خان صاحب بھی جھٹ سے امریکہ پہنچ گئے۔یہی نہیں بلکہ شارٹ ٹائم کے اندر اب دوسرے دورے کے لیے بھی تیار ہو چکے ہیں جس کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

امریکہ نے کبھی بھی کسی کی طرف بغیر مطلب کے ہاتھ نہیں بڑھایا اور پاکستان کا کندھا اپنی بندوق چلانے کے لیے اس نے جتنی بار استعمال کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔اب کی بار بھی ٹرمپ کسی ایسے ہی مقصد کے لیے پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

(جاری ہے)

جب آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تھا تو اس نے موجودہ حکومت سے سی پیک کی معلومات مانگی تھیں جو کہ ہماری حکومت نے بغیر کسی پس و پیش کے مہیا کر دی تھی۔

قرضہ تو مل گیا مگر سی پیک کا کام سست روی کاشکار ہو گیااور وہ آہستہ آہستہ ٹھپ ہی ہوتا چلا گیا۔اب ایک جرمن نشریاتی ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی خوشنودی کی خاطر عمران خان حکومت سی پیک منصوبہ ختم کرنے جا رہی ہے۔اللہ نہ کرے کہ یہ سچ ہو مگر اس وقت اگر ترقیاتی منصوبوں پر نظر دوڑائی جائے تو معاملہ کچھ ایسا ہی دکھائی دیتاہے۔جرمن نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ چند برس قبل جوش و خروش سے شروع کی جانے والی پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کی رفتار بہت کم ہوتی جا رہی ہے۔

کئی حلقوں کی رائے میں آنے والے وقتوں میں اس منصوبے پر مکمل جمود طاری ہو جائے گا یا پھر اسے ختم کر دیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ واشنگٹن کو خوش کرنے کے لیے سی پیک کی قربانی دے رہی ہے لیکن پارٹی کے ایک رہنما اسحاق خاکوانی اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں۔اسحاق خاکوانی کہتے ہیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم اس پروجیکٹ کو ترک کر دیں، حکومتیں تبدیل ہونے کے بعد بات چیت ہوتی ہے، جیسا کہ ملائیشیا میں بھی ہوا۔ تو اس منصوبے پر ممکنہ طور پر بات چیت اور ادائیگیوں کے طریقہ کار پر بھی گفتگو ہو رہی ہو گی۔