بھارتی شخص کے سر پر سینگ نکل آیا

دنیا میں ایسا حیران کن واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ ستمبر 06:19

بھارتی شخص کے سر پر سینگ نکل آیا
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2019ء)   مہابھارت سے لے کر رمائن تک بھارت میں کتنی بھی کتابیں ہیں وہ فقط خیال،من گھڑت افسانے اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔کیونکہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان سبھی قصے کہانیوں کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔زیادہ دور نہیں ایک دو سال پہلے اگر بالی وڈ کی ریلیز ہونے والی فلم پدماوتی کی مثال لی جائے تو وہ اس قدر من گھڑت موضوع پر مبنی ہے کہ جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے۔

رانی پدماوتی اور علاؤالدین خلجی کا آپس میں دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا اور جس قدر بھیانک اور قبیح شکل خلجی کی پیش کی گئی وہ ایسا کبھی تھا ہی نہیں۔اور سب سے زیادہ مزے کی بات یہ کہ جس مسلمان لکھاری جائیسی کی نظم ’پدماوت“کو لیکر یہ کہانی فلمائی گئی اس میں بھی یہ لکھا ہے کہ رانی پدماوتی نے علاؤالدین خلجی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک اور راجپوت راجا کی وجہ سے خود کشی کی تھی۔

(جاری ہے)

خیر یہ تو ایک مثال تھی بات ہو رہی تھی ہندوؤں کی من گھڑت کہانیوں کی کہ انہیں ہر دور میں بھگوان کی ضرورت رہی ہے اور آج کل بھارت کے جس قسم کے کرتوت ہیں تو کم سے کم انہیں ایک آدھ زندہ بھگوان کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس سے پوچھ سکیں کہ اکھنڈ بھارت بنانے کے لیے اور کتنے معصوم کشمیریوں کا خون بہا جائے گااور کتنے آسام کے مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالا جائے۔

ابھی گزشتہ دنوں خبر وائرل ہوئی کہ بھارت میں ایک شخص کے سر پر سینگ نکل آیاجس کا آپریشن بھی کر دیا گیامگر ابھی بھی اس قسم کے کیس سے متعلق تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسا کیسے ہو گیا۔بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ شیام یادو کا کہنا ہے کہ پانچ سال قبل ان کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا جس کے بعد ان کے سر پر سینگ نُما چیز نکلنے لگی۔

شیام یادو نے بتایا کہ سر پر نکلنے والی اس سینگ نما چیز کو پہلے نظر انداز کیا کیونکہ اس میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ایک مرتبہ نائی سے بال کٹوانے کے دوران شیام یادو نے اس سینگ نما چیز کو نائی سے نکلوا دیا تھا جس کے بعد وہ دوبارہ نکل آیا جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا پڑا۔ساگر شہر میں واقع ترتھ اسپتال میں ڈاکٹرز نے ابتدائی طور پر مریض کے سی ٹی اسکین کیے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ اس بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق شیام یادو کے سر پر نکلنے والا سینگ ایک کیمیکل سے بنتا ہے جسے میڈیکل کی اصطلاح میں ’کیریٹن‘ کہتے ہیں اور یہ کیریٹن ناخن اور بالوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔نیورو سرجن بھاگ یودے نے شیام کے سر سے اس سینگ نما چیز کو اسٹیریلائز ریزر کی مدد سے نکالا اور مریض کو 10 روز کے لیے اسپتال میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے کچھ ضروری ٹیسٹ کیے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مستقبل میں انہیں دوبارہ اس بیماری کا خطرہ لاحق تو نہیں ہو گا۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا اس بیماری کا نام ’سیبے شیس ہورن‘ جسے ’ڈیول ہورن‘ بھی کہتے ہیں اور یہ بیماری عام طور پر بہت ہی کم  ہوتی ہے، اور اب تک اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی مگر اس بیماری کو روشنی اور سورج کی شعائیں مزید بگاڑ سکتی ہیں۔اس بیماری کو مختلف طریقوں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے جن میں شعاعوں کی مدد سے سرجری اور کیموتھراپی شامل ہے۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کیس کو ’انٹرنیشنل جرنل آف سرجری‘ میں بھیج دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی بیماری بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہے اور یہ بیماری بے حد پُر اسرار ہے۔چونکہ یہ پوری دنیا میں پہلا ایسا کیس ہے تو اس پر بھی ڈر پیدا ہو رہا ہے کہ بھارتی اس شخص کو بھگوان کا درجہ نہ دے دیں کیونکہ ان کے بھگوان میں ہاتھی،بندر،سانپ اور اسی طرح کی خصوصیت رکھنے والے تو بہت تھے مگر سینگ والا بھگوان کوئی نہیں ہے۔