شہید پولیس اہلکار کی منکوحہ کے بیان نے سب کو آبدیدہ کر دیا

میرا سب کچھ وہی تھا،میں اس کے لیے سب سے لڑتی تھی لیکن آج وہ چلا گیا۔ شہید کی بیوہ کا بیان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ ستمبر 12:55

شہید پولیس اہلکار کی منکوحہ کے بیان نے سب کو آبدیدہ کر دیا
کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 ستمبر 2019ء) گذشتہ روز کراچی کے بہادر پولیس اہلکار نے دو ڈاکوؤں کو ٹھکانے لگا دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ فرض کی ادائیگی میں ایک اور ثبوت نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ناظم آباد عید گاہ گراؤنڈ کے قریب پولیس مقابلہ ہوا جس میں دو ڈاکو ہلاک ہو گئے جب کہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ذیشان شہید ہو گئے۔

پولیس اہلکار کو سینے پر ایک گولی لگی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔پولیس اہلکار ذیشان کو اسپتال لایا گیا تاہم وہ اسپتال پہنچے سے قبل ہی شہید ہو چکے تھے۔ جام شہادت نوش کرنے والے اہلکار کی اگلے ماہ شادی تھی۔بتایا گیا ہے کہ ذیشان کا نکاح ہو چکا تھا جب کہ ان کی شادی ایک ماہ بعد تھی۔

(جاری ہے)

شہید پولیس اہلکار کی منکوحہ پر تو جیسے قیامت ہی توٹ پڑی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا سب کچھ ذیشان تھا، میں ان کے لیے سب سے لڑتی تھی،لیکن آج وہ چلا گیا ہے۔مقتول کی بیوہ نے کہا کہ ظالموں نے ہماری زندگی بسنے سے پہلے اجاڑ دی۔
ذیشان چار بہن بھائی تھے،ذیشان نے 2014 ء میں پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ذیشان حافظِ قرآن بھی تھے،وہ اپنے بہن بھائیوں میں سے سے زیادہ لاڈلے تھے۔

شہید اہلکار کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی جی رینجرز نے بھی شرکت کی۔خیال رہے کہ عید گاہ گراؤنڈ کے قریب تین ملزم ڈکیتی کر کے فرار ہو رہے تھے۔گشت پر مامور اہلکاروں نے روکا تو ڈاکوؤں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکو 6رکنی گینگ کے کارندے تھے۔ڈاکوؤں سے 30بور کے دو پستول برآمد ہوئے۔ہلاک ہونے والے ڈاکوں کی شناخت حبیب اور عبدالباسط سے ہوئی۔