منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت مسترد

جمعہ ستمبر 13:15

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سابق صوبائی وزیر قانون و ممبر قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جبکہ عدالت نے شریک دیگر 5 ملزموں کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ لاہور کی انسداد منشیات عدالت کے ڈیوٹی جج خالد بشیر نے رانا ثناء اللہ اور دیگر شریک ملزمان کی درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالتی سماعت کے دوران رانا ثناء اللہ کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ گرفتاری کے بعد 3 گھنٹے کی تاخیر سے رانا ثناء اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ اے این ایف کے وکیل رانا کاشف نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ کہنا کہ ایف آئی آر میں تاخیر ہوئی بالکل غلط ہے، ایف آئی آر درج کرتے وقت تمام قانونی تقاضے پورے کئے، رانا ثناء اللہ سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے، اے این ایف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رانا ثناء اللہ سے جب منشیات کا بیگ برآمد ہوا تو اس وقت ان کے محافظوں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے پانچ شریک ملزمان کی ضمانت منظور کی جبکہ رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ اے این ایف نے رواں سال یکم جولائی کو رانا ثنا ء اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے پر انہیں گرفتار کر کے ان کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔جس کے بعد سے وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔