Live Updates

وزیر اعظم عمران خان کی سعودی قیادت سے ملاقاتیں

مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکے خاتمہ، بنیادی حقوق کے احترام ، سلامتی کونسل کی قرارداد وں کے مطابق تنازعہ کے حل کی ضرورت پر زور، اہم امورپرتبادلہ خیال

جمعہ ستمبر 16:26

وزیر اعظم عمران خان کی سعودی قیادت سے ملاقاتیں
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو اور پابندیوں کے جلد خاتمہ، کشمیریوں کی آزادی اور حقوق کے احترام کو یقینی بنانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارسعوی عرب کے دورہ کے دوران سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں کیا ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورہ کے دوران سعودی قیادت کے ساتھ اہم امورپرتبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے سعودی ولی عہد، نائب وزیراعظم و وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان اورخادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی سعودی عرب کادورہ کر رہا ہے، وزیراعظم کے وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندرپارپاکستانیزسید ذوالفقارعباس بخاری اور سینئر حکام شامل ہیں۔

وزیراعظم عمران کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے سعودی قیادت نے کہا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان تعلقات حقیقی بھائی چارہ کی بنیاد پر قائم ہیں۔ فریقین نے دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات کار اورباہمی تعلقات کے معیار کی اہمیت اجاگرکی اوران تعلقات میں مزید اضافہ اورکثیرشعبوں میں تعلقات کوفروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے علاقوں ابقیق اورخریس میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں پر پاکستان کی جانب سے پرزورمذمت اورسعودی عرب کی سلامتی اورعلاقائی سالمیت کے ضمن میں پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کی قیادت کو بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو اٹھائے جانے والے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات، اس کے نتیجہ میں بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی سے متعلق امور کی سنگین صورتحال اور بھارت کے غیرذمہ دارانہ اقدامات و مخاصمانہ بیانیہ سے علاقائی امن اورسلامتی کیلئے پیدا ہونے والے سنگین خطرات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 46 روز مکمل ہو چکے ہیں اور80 لاکھ سے زائد کشمیری شہری اس وقت لاک ڈاون اورکرفیوکی وجہ سے سنگین صورتحال کاسامنا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو اور پابندیوں کے جلد خاتمہ ، کشمیریوں کی آزادی اورحقوق کے احترام کویقینی بنانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں کے مطابق جموں وکشمیر کے تنازعہ کے حل کی ضرورت پرزوردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کاز کیلئے اسلامی تعاون کی تنظیم اوآئی سی کی پہیم حمایت اورکردار پربھی روشنی ڈالی۔ سعودی عرب کی قیادت نے صورتحال پرتشویش کا اظہارکیا اورکشمیر کازکیلئے اپنی مضبوط حمایت اوریکجہتی کے عزم کااعادہ کیا۔فریقین نے امن، سلامتی اورتصفیہ کے حل کیلئے مل کرکام کرنے پراتفاق کیا۔دوطرفہ تعلقات کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعظم نے فروری 2019ء میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کاذکرکیا اورکہاکہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اضافے نے نئی بلندیوں کو چھواہے۔

فریقین نے دوطرفہ تجارت، توانائی ، سرمایہ کاری اورعوامی رابطوں میں مزید اضافہ کے عزم کااعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے روڈ ٹومکہ پراجیکٹ میں پاکستان کو شامل کرنے پر سعودی قیادت کاشکریہ اداکیا اوراس امید کااظہارکیا کہ اس پراجیکٹ کے دائرہ کار کو پاکستان کے باقی شہروں تک بھی توسیع دی جائیگی۔اگست 2018ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب کا یہ چوتھا دورہ ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم نے مئی 2019 ء میں سعودی عرب کادورہ کیاتھا، اس دورے میں انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے 14 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات اعتماد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون و حمایت کی بنیاد پراستوارہیں۔ سعودی عرب میں سب سے زیادہ پاکستانی مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوںکا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے سعودی پاک سپریم کوآرڈینیشن کونسل بھی قائم کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اورسعودی ولی عہد اس کے شریک چیئرمین ہیں۔ سعودی پاک سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا اگلا سیشن فروری 2020ء میں ہوگا۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات