سپریم کورٹ کا 12 ہزار کلو گرام چرس سمگل کرنے کے الزم میں عمر قید کے ملزم عبدالستار کو بری کرنے کا حکم

جمعہ ستمبر 16:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے 12 ہزار کلو گرام چرس سمگل کرنے کے الزم میں عمر قید کے ملزم عبدالستار کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔وکلاء نے پشاور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذرعے دلائل دئیے۔سپریم کورٹ نے 12 ہزار کلو گرام چرس سمگل کرنے کے الزم میں عمر قید کے ملزم عبدالستار کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے دوسرے مجرم حسین شاہ کا عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا،ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم حسین شاہ اور عبدالستار کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔سرکاری وکیل نے کہاکہ ملزم حسین شاہ ٹریلہ ٹرک چلا رہا تھا جبکہ عبدالستار اس کی مدد کے لیے اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔

(جاری ہے)

سرکاری وکیل نے کہاکہ ٹریلے میں منشیات سمگل کرنے کے لیے خفیہ خانہ بنایا گیا تھا۔

انہوںنے کہاکہ خفیہ خانے سے چرس کے 6 سو بیگ برامد ہوئے جن میں 12 ہزار چرس تھی۔ سرکاری وکیل نے کہاکہ ہر بیگ میں 20 پیکٹ چرس کے تھے۔ وکیل ملزم نے کہاکہ عدالت نے منشیات کے دوبارہ نمونے لے کر ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ وکیل ملزم نے کہاکہ جس کیمیکل ایگزامینر نے نمونے کا ٹیسٹ کیا وہ اہل نہیں تھیں۔ چیف جسٹس نے سر کاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر فرحانہ کوالیفائیڈ نہیں تھیں۔ سرکاری وکیل نے کہاکہ ڈاکٹر فرحانہ بائیو کمیسٹ تھیں اور کوالیفائیڈ تھیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ فرض کریں اگر وی کوالیفائیڈ نہیں بھی تھیں انہیں تو حکومت نے تعینات کیا تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ڈاکٹر فرحانہ پر اعتراض تھا تو ان کی تعیناتی کو چیلنج کیا جاتا۔