حیات آباد سے بھاری گاڑیوں کا گزرنا روز کا معمول بن چکا ہے،ضیاء الحق

جمعہ ستمبر 23:22

پشاور۔20ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA)کے صدرضیاء الحق سرحدی نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ پشاور کی جدید بستی حیات آباد سے بھاری گاڑیوں کا گزرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔تیل وگیس کے کنٹینرز نہ صرف آئے روز ٹریفک جام اور رش کا سبب بن رہے ہیںبلکہ ان سے انسانی جانوں کو خطرات بھی لاحق ہوگئے ہیں۔

وطن عزیز میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں آئل ٹینکرکے رستے ہوئے تیل سے بھڑک اٹھنے والی آگ نے لمحوں میں انسانی زندگیوں کو چاٹ لیاجبکہ انتظامیہ کی طرف سے دیئے جانے والے روٹ پر ایسے ٹرک وٹینکر کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں اور ایسی صورت میں بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ رات 08بجے کے بعد جب ٹریفک پولیس چلی جاتی ہے باغ ناران چوک کے پاس سینکڑوں بھاری ٹرک اور کنٹینرز جو کہ افغانستان کے لیے سامان لے کر جا رہے ہوتے ہیںباغ ناران چوک سے ہو کر انڈسٹریل سٹیٹ سے ہوتے ہوئے جمرود روڈکراس کر کے آگے لنڈی کوتل طورخم کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ انہوں نے اپنے کالموں میں جوکہ ملک بھر کے موخرجریدوں میں شائع ہو چکے ہیں بار باراحکام بالاکی طرف اس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی اور انتظامیہ خصوصاً پی ڈی اے، پولیس اور حکومتی ارکان سے بار ہا ملاقاتوں اورتحریری یاداشتیں جمع کرانے کے باوجود حیات آباد کے رہائشی ناامید ی کا شکارہیںاورکسی بھی ارباب اختیار نے اس جانب توجہ نہ دی جو کہ انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔

جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ٹس سے مس نہ ہونے کی صورت میں اہلیان حیات آباد نے کئی مرتبہ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سڑکیں بھی بلاک کرنے اور دھرنہ دینے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور حکومت حیات آباد کی ٹریفک کی صورتحال سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ اہلیان حیات آباد مسلسل اور مستقل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔لہٰذا انتظامی اقدامات اٹھاتے ہوئے فی الفور بھاری ٹریفک کو حیات آباد سے گزرنے کا اجازت نامہ منسوخ کرکے شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جائیں۔