پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا

پاک افغان بارڈرعالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے، طورخم بارڈر کھلا رکھنے سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا، ایسے بیانات امن اور باہمی تعاون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ترجمان دفترخارجہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ ستمبر 20:28

پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 ستمبر2019ء) پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا، ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاک افغان بارڈرعالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے، طورخم بارڈر کھلا رکھنے سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا، ایسے بیانات امن اور باہمی تعاون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بیان غیرذمہ درانہ اور غیرضروری ہے۔

ایسے بیانات امن اور باہمی تعاون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ افغانستان کو چاہیے کہ ایسے بیانات سے گریز کرے۔ پاک افغان بارڈرعالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔طورخم بارڈر کھلا رکھنے سے دونوں ممالک کے عوام کو سہولت ملے گی، بارڈر کھلا رکھنے سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا۔

(جاری ہے)

مزید برآں ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ کشمیرپرنتیجہ خیز اقدامات اٹھائے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال اقوام متحدہ کی توجہ کا مرکزبن چکی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے جموں و کشمیرکی صورتحال پرمستقل توجہ مرکوزرکھی ہے اور اس کے لئے متعدد اقدامات بھی اٹھائے ہیں، اب انسانی حقوق کونسل کی ذمہ داری ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال میں بہتری کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بدترین کرفیو سینتالیس ویں روز بھی برقرار ہے۔ مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے بعد قابض بھارتی فورسز نے مسجدوں پر بھی کریک ڈاون شروع کردیا ہے۔ وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان پڑے ہیں جبکہ گھروں میں قید کشمیری ضروریات زندگی کو ترس گئے ہیں۔