نشے کے عادی افراداسٹریٹ کرائم کی 60فیصد وارداتیں کررہے ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی

کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنا چیلنج ہے،، اگلے ماہ دس ہزار بھرتیاں کی جائیں گی، غلام نبی میمن

جمعہ ستمبر 23:42

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ نشے کے عادی افراداسٹریٹ کرائم کی 60فیصد وارداتیں کررہے ہیں،نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے کراچی میں 12بحالی مراکز بنائے جائیں گے، ٓائندہ ماہ اگلے ماہ دس ہزار بھرتیاں کی جائیں گی جن میں پولیس میں 8 ہزار ٹریفک پولیس میں 2 ہزار بھرتیاں ہونگی،تھانے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6ماڈل تھانے قائم کیے جائیں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کوکورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر دانش خان، سینیئر نائب صدر فراز الرحمن، سینیٹر عبدالحسیب خان، کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے امن و امان کے چیئرمین ندیم خان، سی ای او کائٹ زبیر چھایا ، نائب صدر کاٹی ماہین سلمان اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں صنعت کاروں کی بڑی تعداد کے سمیت ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہر، ایس ایس پی کورنگی علی رضا اور دیگر پولیس افسران نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں پولیس کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی بھی کروائی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنا چیلنج ہے، میں اور میری فورس عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، شہریوں میں تحفظ کے احساس کو پیدا کرنے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،کمیونٹی پولیسنگ کے زریعے کراچی میں دیرپا امن قائم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی افسر کے انفرادی غلط کام کو پولیس ڈپارٹمنٹ سے نہ جوڑا جائے، دو ماہ میں اچھے کام پر فوری جزا اور غلط کام پر فوری سزا کا اصول نافذ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر شہر سے بھتا خوری اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے،اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانا ہے،دہشت گردی بھتا خوری اور اغوا برائے تاوان ہر عوام کے تعاون سے قابو پایا اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے رسپانس ٹائم کو بہتر بنانے پر کام ہورہا ہے، 15کے لیے موبائل مختص کی جائیں گی اور ٹیلی کام کمپنیوں سے شکایت کنندہ کی جیو لوکیشن کے حصول پر کوششیں جاری ہیںاور پولیس کی گاڑیوں کی لوکیشن کو بھی جیو لوکیشن سے متحرک کیا جاسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے مقابلہ تھانوں کی ذمہ داری ہے انہیں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ تھانوں کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تھانوں میں باصلاحیت اور ایماندار ایس ایچ او تعینات کیے جارہے ہیں، اس کے اختیارات اپنے پاس نہیں رکھے بلکہ ڈی آئی جیز کے ساتھ مل کر سات رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو تھانے کے لیے ایس ایچ او کا شفاف انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت جن 25 افسران کا انتخاب ہوا انہیں تھانوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل تھانوں کے لیے اضافی بجٹ مختص کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گارڈز کے لیے ڈیوٹی دینے والے اہلکار واپس لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کے لیے سڑکوں پر مارکنگ ناگزیر ہے، اس کے لیے ڈی ایم سیز اور کنٹونمنٹ کو ایک ماہ پہلے خط لکھا جس کا جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک انجینیرنگ کو پولیس کے ماتحت ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کی تصویر میڈیا میں جاری ہونے سے کیس کمزور ہوجاتا ہے اس لیے میڈیا پر ملزمان کی تصاویر جاری ہونے سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ فی صد سے زائد اسٹریٹ کرائم منشیات کے عادی افراد کرتے ہی، منشیات کی لعنت پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سی پی ایل سی کے ساتھ مل کر نشے کے عادی افراد کے لیے پہلا بحالی مرکز ملیر میں قائم کرے گی اور اس کے بعد پورے شہر میں ایسے دس سے بارہ بحالی مراکز بنائے جائیں گے ۔

قبل ازیں صدر کاٹی نے کہا شہر میں انفرااسٹرکچر کی بدحالی کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، حالیہ دنوں میں بارشوں کے بعد ٹریفک میں خود چار گھنٹے تک پھنسا رہا، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کے اعتبار سے تھانوں کی نفری کم ہے اس میں اضافہ ہونا چاہیے۔ دانش خان نے کہا کہ تھانوں کو ضم کرنے کے فیصلے پر تشویش ہے، جرائم کی شکایات درج کروانے میں پہلے ہی مسائل کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ معاشی ترقی قیام امن سے مشروط ہے، پاک فوج ، پولیس ، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں امن کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے امن و امان کے چیئرمین ندیم خان نے کہا کے ایس ایس پی کورنگی علی رضا اور ان کی ٹیم نے کورنگی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جس طرح کریک ڈاؤن کیا ہے اسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

سینیٹر عبدالحسیب خان کا کہنا تھا کہ شہرمیں نفاذ قانون کیلئے سینٹر پلان ہوچاہیے اس سے اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی صورت حال میں بہتری لانے میں بھی مدد ملے گی۔ چیف سی پی ایل سی کورنگی ملیر زبیر چھایا کا کہنا تھا کہ آپریشن اور انویسٹی گیشن کے شعبے کو علیحدہ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہران ٹاؤن اس علاقے میں جرائم کا گڑھ بن چکا ہے، اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔