مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا، دل آزاری پر معافی مانگتا ہوں،جسٹن ٹروڈو

کینیڈا کے وزیراعظم پر بھی نسل پرستی کا الزام لگا دیا گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ ستمبر 06:19

مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا، دل آزاری پر معافی مانگتا ہوں،جسٹن ٹروڈو
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2019ء)   عوام دوست یا پھر عوام میں گھل مل جانے والے اگر دنیا میں کوئی اس وقت لیڈر موجود ہیں تو وہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ہیں۔وہ اپنی رعایا کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتے ہیں ڈھابے پر کھڑے کھانا شروع کر دیتے اور کچھ بھی۔بغیر کسی پروٹوکول کے آپ کو مین شاہراہ پر بھی گھومتے نظر آئیں۔تاہم اب یہ ہر دلعزیز لیڈر بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ دو دن قبل انکی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے اپنے چہرے پر سیاہ رنگ لگایاہوا تھا۔

یہاں سے لوگوں نے اندازہ لگایا کہ آپ نسل پرست ہیں اور سیاہ لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔تصویر آن کی آن میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اس پر خاصی لے دے بھی ہوئی یہاں تک کہ کینیڈا کے وزیراعظم کو اپنے اس کسٹیوم پر وضاحتی بیان دینا پڑا۔

(جاری ہے)


خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق مشہور میگزین ٹائم نے جسٹن ٹروڈو کی ایک تصویر شائع کی جو 2001 میں لی گئی تھی، اس تصویر میں انہوں نے ایک تقریب کے لیے الہ دین کے کردار کا کاسٹیوم پہنا جبکہ اپنے چہرے کو سیاہ رنگ کا کردیا تھا، اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی۔

یہ تصویر وینکوور کی ویسٹ پوائنٹ گرے نامی اکیڈمی میں لی گئی تھی، یہاں منعقد پارٹی کے تھیم کا نام 'عریبیئن نائٹس' رکھا گیا تھا۔اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد جسٹن ٹروڈو پر نسل پرستی کا الزام عائد کیا جارہا ہے، جس پر اب انہوں نے معافی بھی مانگ لی۔ یہ تصویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جسٹن ٹروڈو دوبارہ کینیڈا کے وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 21 اکتوبر کو عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، شاید مجھے بہتر سمجھ ہونی چاہیے تھی، اس وقت مجھے نہیں لگا کہ جو میں کررہا ہوں وہ نسل پرستانہ ہے، لیکن اب میں اس کے لیے سب سے معافی مانگتا ہوں۔جسٹن ٹروڈو نے بتایا کہ انہوں نے اسکول کی ایک اور تقریب کے دوران برائون فیس کرکے ایونٹ میں حصہ لیا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ اب وہ اپنے اس فعل پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔خیال رہے کہ جسٹن ٹروڈو ہمیشہ سے ہی مختلف مذاہب اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ گھل مل جانے کے حوالے سے مشہور رہے ہیں۔