کرپشن کا بہانا ہے اصل میں سندھ حکومت نشانہ ہے ،یہ سب سندھ حکومت گرانے کیلئے کیا جا رہا ہے‘ قمر زمان کائرہ

مولانا صاحب کے سامنے اپنے تحفظات رکھیںہیں ان کا جواب نہیںآیا،بلاول صاحب بھی ایک ماہ کے اندر نکلیں گے حکومت کو روزانہ طاقت کے دو چار ٹیکے نہ لگیں تب تک یہ اٹھ نہیں سکتی،یہ حکومت ہمارے سامنے زیادہ دیر تک نہیں پائے گی ہو سکتا ہے میری گاڑی سے بھی کچھ نکال کر مقدمہ درج کر دیں ‘پریس کانفرنس/بلاول زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹاگیا

ہفتہ ستمبر 19:40

کرپشن کا بہانا ہے اصل میں سندھ حکومت نشانہ ہے ،یہ سب سندھ حکومت گرانے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کرپشن کا بہانا ہے اصل میں سندھ حکومت نشانہ ہے ،یہ سب سندھ حکومت گرانے کیلئے کیا جا رہا ہے، خورشید شاہ کو ایسے مقدمے میں گرفتار کیا گیا جن سے وہ ہائیکورٹ سے بری ہو چکے ہیں،ان پر ایسی جائیداد کے مقدمے بنائے جا رہے ہیں جو ان کے دوستوں کے ہیں،مولانا صاحب کے سامنے اپنے تحفظات رکھیںہیں ان کا جواب نہیںآیا،بلاول صاحب بھی ایک ماہ کے اندر نکلیں گے،حکومت کو روزانہ طاقت کے دو چار ٹیکے نہ لگیں تب تک یہ اٹھ نہیں سکتی،یہ حکومت ہمارے سامنے زیادہ دیر تک نہیں پائے گی۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا ۔

(جاری ہے)

قمر زمان کائرہ نے چوہدری منظور احمد، سید حسن مرتضی ،چوہدری اسلم گل اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو پاکستان کی امید ہیں،سیاست چیئرمن بلاول بھٹو کا ورثہ ہے،ہماری قیادت کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے ،پہلے آصف زرداری ، فریال بی بی ، سپیکر سندھ اسمبلی کو پکڑا گیا،خورشید شاہ کہتے ہیں کہ نیب کی جانب سے جتنا دعوی کیا جا رہا ہے سارا نیب رکھ لے اس کا 10سی15 فیصد مجھے دیدے۔

انہوںنے کہاکہ حیرت کی بات ہے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں پر ہی اربوں کے مقدمے بنتے ہیں ،ڈاکٹر عاصم پر 460 ارب، خورشید شاہ پر 500 ارب اور زرداری صاحب پر نہ جانے کتنے ارب کا الزام لگا رہے ہیں لیکن جو عدالت میں پیش کیا جارہاہے وہ ڈیڑھ کروڑہے،افسوس کہ جب نیب جھوٹے الزامات لگاتا ہے تو میڈیا اس پر مہر لگا دیتا ہے،میڈیا والے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے مقدمات میں رویہ اور ہوتا ہے ،ہم پر کھربوں کا الزام لگا کر میڈیا سے مہر لگوا کر لوگوں کو کنفیوز کیا جاتا ہے،جو لوگ تحقیقات میں تعاون کرتے ہیں انہیں گرفتار کرنے کا کیا مقصد ہے،کیا آپ گرفتار کر کے تشدد کر کے منوانا چاہتے ہیں ۔ نیب کے لوگ خورشید شاہ کے گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر گئے ۔نیب کے ساتھ پنجاب میںجو سلوک ہوا ان کے لوگوں کو تھپڑ مارے گئے کیا یہ یہی سلوک چاہتے ہیں۔

نیب ایک بے مہار ادارا بنا ہوا ہے جس پر چیف جسٹس نے بھی تحفظات ہیں،یہ سب سندھ حکومت گرانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔آصف زرداری ، فریال تالپور اور خورشد شاہ کوگرفتار کر کے آپ سندھ میں عدم استحکام نہیں لا سکتے ،آپ کچھ بھی کر لیں نیب کچھ بھی کر کے سندھ حکومت نہیں گرا سکتا۔۔ پشاور میں بس منصوبے کی کرپشن نظر نہیں آرہی اور سندھ میں یو سی چیئرمن تک گرفتار ہو رہے ہیں یہ نیب کا اختیار نہیں ہے ۔

آپ سندھ حکومت ایسے نہیں گرا سکتے آپ کو غیرآئینی راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میرے رشتہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے،پارٹی اور نظریہ چھوڑنے کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکمران کشمیر میں ناکام ہو رہے ہیں حالانکہ انہوںنے تو مودی کیلئے دعائیں مانگی تھیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں قرضے لینے کے پرانے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

صرف 2ہزار ارب قرض واپس کیا اورایک سال میں 10 ہزار ارب سے زائد قرض لے لیا،یہ صاحب اور انسٹالر سمجھتے ہیں کہ ایسے چلے گا لیکن ایسے نہیں چلے گا،ان سے ہو کچھ نہیں رہا اس لئے پکڑ دھکڑ سے کشمیر اور کارکردگی سے توجہ ہٹا نا چاہتے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ چوہدری منظور کی جیب سے سپاہی کوئی پڑی نکال لے ،ہو سکتا ہے کہ میری گاڑی سے بھی کچھ نکال کر مقدمہ درج کر دیں ۔

انہوںنے کہاکہ بہت سے لوگوں کو شہید بینظیر اور شہید بھٹو کے نام سے چڑ ہے،یہ سب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیچھے پڑے ہیں،یہ پروگرام صرف پیسے دینا نہیں ، غربت ختم کرنے کا پروگرام تھا،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ بند کر دئیے گئے ہیں ،احساس پروگرام کے نام پر نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سفاکیت بڑھتی جا رہی ہے،چونیاں کا واقعہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ،چند معطلیوں سے کچھ نہیں ہو، یہ پہلوان حکومت چلائیں گے، ڈینگی سنبھلتا نہیں حکومت کیاسنبھالیں گے،ان سے ڈینگی قابو ہوتا نہیں چلے ہیں سندھ حکومت گرانے۔

یہ یو ٹی حکومت ہے یا یوٹرن لیتے ہیں یا اندر ٹرینی رکھتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی مفت ادویات تک بند کر دی گئیں،آڈٹ کے نام پر دوائیاں بند کرنا ظلم ہے،دونوں فیصلے ظالمانہ ہیں فوری طور پر واپس لئے جائیں،خان صاحب آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر کرپشن کے الزام لگایا کرتا تھے،آج خان صاحب کی حکومت پر 15670 ارب کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، آڈیٹر جنرل کی یہ رپورٹ خان صاحب کے اصول کے مطابق اس کرپشن کا جواب دیں ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کاایک فری لانسر وزیر کہتا ہے گرم جگہ پر پائوں نہ رکھیں،حضور آپ کی حکومت نے پوری قوم کو گرم جگہ پر بٹھا دیا ہے،اب آپ کے ہاتھ جلیں گے جو کچھ کیا ہے اس سے سلیکٹرز سے بھی کہتے ہیں کہ سوچیں ۔انہوں نے قومی وحدت کو دائو پر لگا دیا ہے،مولانا بھی نکل رہے ہیں ، اس حکومت کو جلد چلتا کریں گے،یہ حکومت رہی تو مزید تباہی آئے گی ۔

ایمنسٹی اسکیم کے باوجود آپ کے معاشی اہداف پورے نہیں ہیں۔خبر یہ ہے کہ یہ نیشنل بنک اور سٹیٹ لائف کارپوریشن بیچنے جا رہے ہیں،یہ ہر سال گھر کا برتن بیچ کر ملک چلانا چاہتے ہیں،گھر بیچ کر ملک چلانا ہے تو کسی کوئی طالب علم کو دے دو،آئندہ چار سال میں 40 ارب ڈالرز لینے کا پروگرام ہے اوریہ وہ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم نیک ہیں لوگ ٹیکس دیں گے کدھر گئی وہ لائنیں۔

ہر روز کہتے ہیں ڈیل رہی ہے،کدھر گئی ڈیلیں۔ پیپلز پارٹی کبھی ڈیل نہیں کرتی، نہ پہلے کہ نہ اب کرے گی،پیپلز پارٹی ڈیل نہیں کرے گی بلکہ آپ کو ڈیل کرے گی.۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جائو ان کا پیارا بیٹھا ہے ، کہیں زلفی بخاری تو کہیں اور کوئی بیٹھا ہے۔نیب بھی سن لے ایک صوبے پر زور لگا کر آپ صوبے میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔سندھ میں عدم استحکام ملک دشمنی ہوگا،شیخ رشید کا پتا ہی نہیں کہ کس کے ترجمان ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مولانا صاحب کے سامنے اپنے تحفظات رکھیںہیں ان کا جواب نہیںآیا،مولانا صاحب بھی نکلیں گے، بلاول صاحب بھی ایک ماہ کے اندر نکلیں گے،اگر مولانا نے تحفظات کا جواب نہ دیا تو پھر بھی ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔یہ حکومت تو چار پانچ ووٹوں پر کھڑی ہے اسے گرانا کیا مسئلہ ہے،اس حکومت کو روزانہ طاقت کے دو چار ٹیکے نہ لگیں تب تک یہ اٹھ نہیں سکتی،یہ حکومت ہمارے سامنے زیادہ دیر تک نہیں پائے گی۔