امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی

ایران کودوسرے ممالک پر حملہ کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی قیمت چکانا ہوگی،امریکی محکمہ خارجہ

ہفتہ ستمبر 21:04

امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 ستمبر2019ء) امریکا نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذمہ داری براہ راست ایران پر عائد کرتے ہوئے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیویلپمنٹ فنڈ اور مالیاتی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران نے عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کے بعد سعودی عرب پر حملہ کیا، جارحیت کا یہ قدم ان کی خطرناک منصوبہ بندی اور اس پر عمل ہے۔

سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ الزام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے باوجود ثبوت صرف اور صرف ایران کی نشان دہی کرتے ہیں۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے دنیا کی سب سے بڑی ریاستی دہشت گردی پر عائد تاریخی پابندیوں پو مزید اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ہم ان ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

پابندیوں کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا نے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایرنی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو ملیٹری کی خریداری کے لیے مالی امداد میں ملوث پائی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ادارے ایرانی حکومت کی دہشت گردی اور دہشت گرد قرار دی گئی فوج پاسداران انقلاب کے ذریعے خطے میں جارحیت پھیلانے اور ایرانی حکومت کی بڑی پراکسی فورس قدس اور حزب اللہ کی مدد کرتے تھے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ دوسرے ممالک پر حملہ کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی قیمت ہوتی ہے اور ایران کی حکومت کو سفارتی تنہائی اور معاشی دبا کے تحت سزا دی جائے گی۔ایران پر پابندیوں کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ ایران جب تک مشرق وسطی اور پوری دنیا کو عدم استحکام کرنے کی پالیسی کو تبدیل نہیں کرتا اس وقت تک زیادہ سے زیادہ دبا کی ہماری مہم جاری رہے گی۔