پاکستان کے 90 فیصد مسائل کا حل 18 ترمیم میں مزید ترمیم کر کے ہی حاصل ہو گا،مصطفی کمال

لوکل باڈیز کا ایک چیپٹر آئین میں ڈالا جائے، صوبائی فنانس کمیشن بنا کر صوبے سے ضلع کی سطح تک وسائل لازمی پہنچنا ضروری ہے، چیئرمین پی ایس پی

ہفتہ ستمبر 22:56

پاکستان کے 90 فیصد مسائل کا حل 18 ترمیم میں مزید ترمیم کر کے ہی حاصل ہو ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) پاک سر زمین پارٹی کے چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کے 90 فیصد مسائل کا حل 18 ترمیم میں مزید ترمیم کر کے ہی حاصل ہو گا، لوکل باڈیز کا ایک چیپٹر آئین میں ڈالا جائے، صوبائی فنانس کمیشن بنا کر صوبے سے ضلع کی سطح تک وسائل لازمی پہنچنا ضروری ہے کیونکہ آج ہر طرف مسائل اور تباہی کی ناختم ہونے والی داستانیں ہیں، صوبے اور ملک کو چلانے والے اگر حالات کو بہتر کرنے کے لیے کام کررہے ہوتے تو ہم ان مشکلات کو برداشت کرتے، لیکن میری قوم کا آج تباہ ہوگیا اور آنے والا کل مزید برباد ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں، ظالم اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو بھی حساب دینا ہوگا، آج سے 1400 سال پہلے جنگ یزید جیتا تھا پر آج یزید کا نام لینے والا کوئی نہیں اور نواسہ رسولؐ کو ہر کوئی یاد کرتا ہے، محبت کرتا ہے، جب الیکشن ہارا تو شکر ادا کیا کیونکہ میرے رب نے ہماری کامیابی کی اسکیم الیکشن کی ہار سے شروع کی، آنے والا وقت عوام کا ہے کیونکہ صرف جیت ضروری نہیں کامیابی ضروری ہے، آج الیکشن جیتنے والے بد دعائیں لے رہے ہیں، ملک چلانے والے ایسے کام کررہے ہیں جس سے میرے بچے پریشان ہیں، کان کھول کر سن لو آج کراچی، حیدرآباد، بلوچستان ،خیبر پختونخواہ پنجاب میں تنظیم بن چکی ہے، گلگت بلتستان میں تنظیم پھیل چکی ہے، مجھے الیکشن کی جیت کی کوئی ٹینشن نہیں، لوگوں کے پاس پی ایس پی کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں۔

(جاری ہے)

وہ پکاقلعہ گرائونڈ حیدرآباد میں ہونے والے پاک سرزمین پارٹی کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، اجلاس میں پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی، وائس چیئرمین اشفاق منگی،ممبر نیشنل کونسل نواب راشد علی خان،جنرل سیکریٹری سندھ مقبول ابڑو،حیدرآباد ڈویژن کے صدر ندیم قاضی اور ضلعی صدر شعیب جعفری نے بھی خطاب کیا، اجلاس میں خواتین ورکرز نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیئرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیت والا سوال ہمارے ذہن میں 2 مارچ 2017ء کو آیا، اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، آج کراچی کا مرکز ہے اور ملک میں تنظیم سازی ہے، کراچی میں 14 سال سے ایک جماعت کا گورنر تھا، ایک اعلان پر کراچی حیدرآباد بند ہوجاتے تھے، کامیابی اور ناکامی صرف حق اور ناحق سے جڑی ہوئی ہے، میں نے اپنا راستہ سیدھا کیا اور کامیابی کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا، میں نے کام کیا اور توکل کیا کہ کامیابی اللہ قدموں میں لاکر دے گا، انہون نے کہاکہ مصطفی کمال جیت کا جشن منا کر اپنی قبر خراب نہیں کرنا چاہتا، انہوں نے کہاکہ چند ہفتے قبل کراچی کے میئر نے مصطفی کمال کا بدنام کرنے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاریبیج کا لیٹر نکالا، پی ڈی کا لیٹر نکلنے کے بعد دو گھنٹے بعد میں نے آفر قبول کرلی، رات کو 2 بجے کچرا صاف کرنے کیلیے افسران کو بلایا تو ان کو پسینے چھوڑ گئے، میں نے عوام کے لیے وسیم اختر کو باس مان لیا اور کام شروع کردیا، سب کو رات 2 بجے بلا لیا، اللہ تعالی نے ایسا کیا کہ مخالفین کی منصوبہ بندی سے ہمیں پذیرائی ملی، انہوں نے کہا کہ وسیم اختر نے میرے اپائنٹمنٹ کا لیٹر آفس میں بیٹھ کر نکالا اور جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو لینے کہ دینے پڑ گئے ہیں تو وہ صبح آفس ہی نہیں آئے اور واٹر پمپ چورنگی پر کھڑے ہوکر نوٹیفکیشن واپس لے لیا، انہوں نے کہا کہ 12 گھنٹے میں میرے رب نے مجھے پورے پاکستان کے دل میں اتار دیا، میرے بدترین مخالفین نے مجھے فون کرکے کہا کہ آپ ہی یہ کام کرسکتے ہیں،مئیر وسیم اختر کو اپنا کردار پتہ ہے اور میرا بھی پتہ ہے، جب ہی اس نے میرا سامنا نہیں کیا، انہوں نے کہاکہ کراچی کے مئیر نے ہمیں رسوا کرنے کے لیے ایک آرڈر نکالا، وسیم اختر کا ارادہ تھا کہ مصطفی کمال بھاگ جائے گا، میں نے ان کی آفر قبول کی ان کے فرشتوں کو بھی گمان نہیں تھا کہ میں ایسا کروں گا میں نے مئیر کو باس کہا ایک ہی رات میں ان کے پسینے چھوٹ گئے اور فون بند کردیئے، انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسی کامیابی چاہیے جس سے اللہ راضی ہو اور دشمن بھی دعا دے، جو آج پاکستان میں لوگ پریشان ہیں، ان لوگوں کی کرپشن کی وجہ سے ہے آج گرفتار ہورہے ہیں، ہر کسی کی باری آرہی ہے، اللہ سب کو گھیر کر لے آئے گا، چھوٹے چھوٹے افسران سے بڑی بڑی گاڑیاں برآمد ہورہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کارکن بلدیاتی انتخابات کی تیاری کریں، برادریوں اور امیدواروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کریں کیونکہ اب عوام کے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔