بیک لاک کچرے کو ایک ماہ میں ختم کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ

ہفتہ ستمبر 23:37

بیک لاک کچرے کو ایک ماہ میں ختم کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2019ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اس ڈیڈلاک کو ختم کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پہلے تصویر لیں اس کے بعد ایک مہینے تک کچرا اٹھائیں ایک ماہ گزرنے کے بعد دوبارہ تصویر لے کر بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں کوتاہیاں دور کریں گے اور بورڈ کو فعال کریں گے، ڈپٹی کمشنر سے کہا ہے کہ روڈکچرا روڈ پرکچرا پھینکنے والوںگرفتار کریں۔

ہفتہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی ایک ماہ پر مشتمل کراچی صفائی مہم کے افتتاح کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ کچرا اٹھانے کا کام ہمارا نہیں بلکہ ڈی ایم سیز کا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شہر میں کچرا بڑی مقدار میں ہے جو بجلی اور کھاد بنانے کا خام مال ہے جس کے باعث ہم نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بنائی تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ گلی کوچوں سے کچرا اٹھاکر عارضی جی ٹی ایس پر لے آئیں، عارضی گاربیج سے صوبائی حکومت ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے کچرا لینڈ فل سائٹ تک لے جانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کچرا سڑکوں یا پھر کھلی مقامات پر پھینکنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا جس کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کردی گئی ہے اور وزراء بھی روزانہ مانیٹرنگ کریں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سہراب گوٹھ میں کچرا زیادہ ہے جسے صاف کیا جائے گا، یہ مہم بیک لاک کچرے اٹھانے کے لئے ہے جو اتنا بڑھ گیا ہے کہ ڈی ایم سیز سے کام نہیں ہو پا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میئر اور ڈی ایم سی چیئرمین میرے ساتھ ہیں، اس بار کی صفائی مہم سے متعلق نتائج دیں گے، امید ہے ایک ماہ کی مہم کے نتائج اچھے آئیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کنٹونمنٹ اور کے پی ٹی کے علاقوں کو ہم نے خط لکھ کر جی ٹی ایس لے جانے کے لئے کہا ہے اگر کے پی ٹی اور کنٹونمنٹ والے اس کو صاف نہیں کرتے تو ہم صاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 56 جی ٹی ایس بنائے ہیں، تمام ڈپٹی کمشنر کو ضروری مشینری دی ہے اور ضروری اختیار بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مقامات پر برجز بھی بنائے جائیں گے۔

متعلقہ عنوان :