نمرتا کا فون تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا

تحقیقاتی ادارے کے مطابق نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی، جدید ماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ ستمبر 22:44

نمرتا کا فون تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) نمرتا کا فون تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی، جدید ماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تفتیشی حلقوں کا محور اس وقت مہران ابڑو ہے جو نمرتا کی موت کے بعد سے بےحد پریشان ہے۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سے دونوں کے درمیان ہونے والی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھی۔

مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنے والوں کے مطابق نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدید ماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا مہران ابڑو سے شادی کرنا چاہتی تھی اور مہران اور اس کے گھر والوں نے بھی شادی کی ہامی بھر رکھی تھی لیکن چند ماہ قبل مہران نے نمرتا اور اپنے درمیان اسٹیٹس کے فرق کو جواز بنا کر شادی سے انکار کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتےہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئےجانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پولیس نمرتا کیس سے متعلق مہران ابڑو اور علی شان میمن سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مہران ابڑو اور نمرتا کی دوستی ڈینٹل کالج میں 2015ء میں ہوئی جو پیار میں تبدیل ہو گئی۔

مہران ابڑو کے والد عبد الحفیظ ریٹائرڈ بینک ملازم اور والدہ ٹیچر ہیں۔ نمرتا چار سال تک مہران ابڑو اور اس کے خاندان کا خرچ چلاتی رہی۔ نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے استعمال میں تھا۔ مہران کی بہنوں کو نمرتا شاپنگ بھی کرواتی رہی۔ نمرتا کو مہران کے والدین شادی کا آسرا دیتے رہے۔ لیکن چار سال کے بعد مہران کے والدین نے شادی سے انکار کر دیا۔ تفتیشی ذرائع نے کہا کہ نمرتا کے اہل خانہ ساری صورتحال سے واقف تھے۔

متعلقہ عنوان :