وسال اپنے پیچھے بہت سے نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں ،دلچسپ یادیں ،ذاتی تجربات بہت کچھ سب ماضی کے اوراق کا حصہ بن جاتے ہیں، جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر

ہفتہ ستمبر 23:30

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2019ء) عدالت عالیہ کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر نے ہائی کورٹ میں اپنی جانب سے الواعی ظہرانے میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان ودیگر کوئٹہ کے تمام ضلعی عدلیہ کے ٓافیسران واہلکاران سے خطاب میں مہمانوں کے آنے کا شکریہ ادا کیا اور کہا گزرتے ہوئے ماہ وسال اپنے پیچھے بہت سے نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں ۔

دلچسپ یادیں ،ذاتی تجربات اور بہت کچھ سب ماضی کے اوراق کا حصہ بن جاتا ہے فرصت کے اوقات میں ماضی کی کتاب کے وراق گردانی گرچہ دلچسپ مشغلہ ہے، لیکن حال نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حال ہی اپنی مٹھی میں ہے۔ کل گزر گیا اور کل گزرگیااور کل آیا نہیں مگر آج اپنے اختیار میں ہے ۔اور یہی حال اگر ضائع ہوگیا تو دوبارہ ہاتھ نہ آئے گا ۔

(جاری ہے)

اور پچھتانے کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔ یہ ادارہ جس سے ہم آپ منسلک ہیں ۔حسب و نسب کے بعد اسی سے ہماری شناخت ہے ۔اور یہی ہماری بقا کا ضامن بھی ہے ۔لہذا اس کی اہمیت کو نہ پہچانا اور اس کے رو گردانی کرنا گویا اپنی شخصیت کی نفی کرنا ہے ہم چاہے اسکے انتہائی درجے پر کام سرانجام دے رہے ہو یا سب سے ابتدائی درجے پر ،کام کی نوعیت بھی گرچہ الگ الگ ہی کیوںنہ ہوکسی بھی درجہ پر کیا گیا کام کو نظر انداز کرنااور اس کی اہمیت سے انکار کرنا کسی طور پر ممکن نہیں۔

اس ادارے میں ہماری حیثیت مشین کے کل پرزوں یا ڈوری پروئے ہوئے موتیوں کی مانند ہے۔ جب تک پرزے صیح جگہ پر ہیں اور ڈوری مضبوط ہے ۔شیراز ہ بکھرنے نہیں پاتا۔ اور ایک یگانگت سے تمام امور پاتے جاتے ہیں ۔جہاں کل پرزوں نے اپنی جگہ چھوڑی مشین ناکارہ ہو جاتی ہے۔ لہذاایک دوسرے سے جڑے رہنے میں ہی ہماری طاقت اور عافیت ہے۔ ادارے قائم رہتے ہیں شخصیات آنے جانے والی ہیں۔

لہذدوام ہمیشہ ادارے کو ہے۔ شخصیات کو نہیں ۔اگر یہ اصول سمجھ میں آجائے تو شخصیت پس پردہ چلی جاتی ہیں ۔اور ادارے ابھر کر سامنے آجاتا ہے اور یہی دھن دل و دماغ پر حاوی ہو جاتی ہے اور جو ادارہ ہماری شناخت ہے اس کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر سہولیات بروئے کار لانا ہے ۔ اپنی تمام تر قوت اور صلاحیت سے۔ جب نیت صاف ہو تو راہ یقینا آسان ہو جاتی ہے اور مطلوبہ نتیجہ مقدر بنتا ہے ۔

یہ ادارہ بھی ہم سے اسی جذبے کی تمنا رکھتا ہے۔ یہ فرض اب ہم سب کے شانوں پر ہے ۔وہ قرض ادارے کاہم پر ہے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلا ئیں اور اس کو درجہ کمال تک پہنچائیں جواسکا حق ہے۔ آپ چاہئے دفتر میں بیٹھ کر دفتری کام سرانجام دے رہے ہو یا فیلڈ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں، دونوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

صرف مشترکہ محنت اور خلوص نیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔یہ ذمہ داری ہم پر اور آپ بھی برابر سے ہے۔ کیوںکہ ادارہ ہم سے ذاتیات کے سوا اجتماعی سوچ کا تقاضا کرتا ہے جہاں حقوق سے زیادہ فرائض کا تذکرہ ہو ۔ ہم اگر اس کی بقا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ذاتی مفادات پس پشت ڈالنے ہوں گے اور فرائض کی ادائیگی پوری دلجمی سے کرنی ہو گی جب ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے تو ہمارا سفر عروج کی جانب شروع ہوجائے گا اور منزل کہیں دور ہوگی۔

پہل یقیناً ہم ہی کرنی ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔چند الفاظ ہم سب کی رہنمائی کیلئے قرآن کریم سے :"جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کیلئے اورجو شخص براعمل کرتا ہے اسکا وبال اسی پر پڑے گا ۔اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں --"(سورةحٰم سجدہ )-"بیٹانماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیاکر اور برے کاموں سے منع کیا کر ۔اور تجھ پر جومصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیراور زمین پر اترا کر مت چل۔

بے شک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر"(سورةلقمٰن )-"بے شک نیک کام مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو ۔یہ بات نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کیلئے ''(سورةہود)بار دیگر آپ تما م حضرات کا بہت بہت شکریہ ۔خدواوند کریم ہم سب کو اس دنیا اور آخرت میں بھلائی عطاء فرمائے ۔