نسل پرستی اور مذہبی منافرت، امریکی مسلمانوں کو جہاز سے اتار دیا گیا

فضائی کمپنی نے تحفظ اور سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پرواز منسوخ کی اور مسلمان مسافروں کو نسل پرستی کا نشانہ بناتے ہوئے جہاز سے باہر نکال دیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 15:36

نسل پرستی اور مذہبی منافرت، امریکی مسلمانوں کو جہاز سے اتار دیا گیا
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22ستمبر2019ء) نسل پرستی اور مذہبی منافرت، امریکی مسلمانوں کو جہاز سے اتار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق فضائی کمپنی نے تحفظ اور سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پرواز منسوخ کی اور مسلمان مسافروں کو نسل پرستی کا نشانہ بناتے ہوئے جہاز سے باہر نکال دیا۔ نسل پرستی کا نشانہ بننے والے مسلمان شہری عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فضائی کمپنی نے انہیں تحفظ اور سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پرواز منسوخ کی اور پھر انہیں جہاز سے باہر نکال دیا۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عبدالرؤف الخلوالدے اور عبداللہ نامی مسافر علیحدہ علیحدہ پروازوں کے ذریعے ڈیلاس پہنچے اور جیسے ہی فلائٹ ڈیلاس پہنچی تو دونوں کے درمیان گفتگو کا آغاز ہو گیا۔

(جاری ہے)

انتظامیہ نے دونوں پر شک کی بنیاد پر جہاز کو روکا اور اعلان کیا کہ تکنیکی مسئلے کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ اسی دوران عبداللہ نامی مسافر باتھ روم چلا گیا، جب اُس نے واپس باہر نکل کر دروازہ کھولا تو اس کے سامنے ایک اہلکار کھڑا تھا جس نے باتھ روپ کے اندر جاکر تلاشی لی۔

اس حوالے سے عبداللہ نے کہا کہ اہلکار کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے پھر اُس نے جس انداز سے گفتگو کی اور پوچھ گچھ شروع کی تو انہیں شدید صدمہ پہنچا اور وہ چپ چاپ اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گئے‘‘۔ عبداللہ نے مزید بتایا کہ ’’اس کےبعد ایک ایئرہوسٹس نے پرواز منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور پھر ہمارے پاس ایک سیکیورٹی اہلکار آیا جس نے ہم سے باری باری تفتیش کی اور چلا گیا، جب ہم ہوائی اڈے پر کافی پینے اترے تو پولیس نے ہم پر نظر رکھی ہوئی تھی، وہ ہمارا مسلسل تعاقب کررہے تھے جس سے گمان ہورہا تھا کہ شاید ہم نے کوئی جرم کردیا ہے‘‘۔

عبداللہ نے مزید بتایا کہ اگلی فلائٹ میں بیٹھتے ہی ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اُس نے اپنا تعارف ایف بی آئی ایجنٹ کی حیثیت سے کروا کر ہمیں ساتھ چلنے کا کہا اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ ہمارا سامان دوبارہ چیک کریں‘‘۔عبداللہ کا روتے ہوئے کہا کہ’’نسل پرستی کا سامنا کرنا انکی زندگی کا سب سے زیادہ خوفناک اور ذلت آمیز دن تھا، اس اقدام سے وہ اور انکا خاندان بے حد دباؤ کا شکار ہیں، یہی وجہ سے ہے اب انہیں نیند نہیں آتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حرکت میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :