شاہدخاقان عباسی کیلئے ڈیڑھ سولوگوں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بیان مل جائے: مصدق ملک

لوگوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تا کہ ان کیخلاف ریفرنس دائر کیا جا سکے، احتساب نہیں انتقام کی سیاست ہورہی ہے: رہنما مسلم لیگ ن

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر ستمبر 22:37

شاہدخاقان عباسی کیلئے ڈیڑھ سولوگوں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ ان کے خلاف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 ستمبر 2019ء) رہنما مسلم لیگ ن ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیلئے ڈیڑھ سولوگوں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بیان مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تا کہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا سکے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ احتساب نہیں انتقام کی سیاست ہورہی ہے، فیصلہ ہوچکا ہے کہ کیا ہونا ہے حکومت کی خام خیالی ہے کہ جیلوں میں ڈالنے سے ان کوحمایت مل جائیگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس وقت بہت نازک وقت سے گزر رہا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ سب کو ساتھ لیکر چلے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں تمام لوگ اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ حکومت این آر او کہتی ہے اور ہم این او کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

حکومت اقوام متحدہ میں کشمیر پر انسانی حقوق کی قرارداد لانے کیلئے 16ملکوں کو بھی ساتھ لیکر نہیں چل سکی، حکومت نہ 16ملکوں کو لیکر چل سکتی ہے اور نہ اپوزیشن کو لیکر چل سکتی ہے تو کیا یہ صرف تحریک انصاف کی حکومت ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہر بندہ خوشی سے جیل جانا پسند نہیں کرتا، نیب کا اور حکومت کا جو رویہ ہے کہ لوگوں کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں ڈال رہے ہیں، اگر ڈالنا ہے تو جیل میں ڈال دیں۔

کالم نگار انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کیس کے حوالے سے تمام متعلقہ حکام اور دیگر متعلقہ افراد بشمول مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق (جو نیب کی حراست میں ہیں) کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی ذمہ داری ان پر (شاہد عباسی) پر ڈال دیں تاکہ انہیں نیب کے عتاب سے بچایا جا سکے۔ ان کی پارٹی اور خاندان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شاہد خاقان عباسی پورے ایل این جی پروجیکٹ کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ انصار عباسی کے مطابق شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ نیب بالآخر مفتاح اسماعیل، شیخ عمران الحق اور کئی دیگر کو گرفتار کرکے مجھ پر دباؤ ڈالے گا۔