ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو ایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

وزیر اعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات ہوگی جس میں ہم دیکھیں گے کہ ایران کے ساتھ معاملات کیسے سلجھ سکتے ہیں: وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر ستمبر 23:59

ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو ایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2019ء) وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو ایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات ہوگی جس میں ہم دیکھیں گے کہ ایران کے ساتھ معاملات کیسے سلجھ سکتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ٹرمپ سےتین ایشوزپردوٹوک بات کی ہے، وزیراعظم نے کشمیرکی صورتحال پرکھل کرموقف پیش کیا اور کہا کہ 80لاکھ کشمیریوں کوگھروں میں محصورکردیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ وزیراعظم نے واضح بات کی ہے اورکوئی ابہام نہیں رکھا، وزیراعظم نے کشمیرکے مسئلہ پرٹرمپ سے اپناکردار ادا کرنے کا کہا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے واضح طورپرکہا کہ افغان ایشوز پر پاکستان کاکردارمخفی نہیں، ٹرمپ نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے کہا افغان امن مذاکرات میں تعطل جلدختم ہونا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کہاہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور آج بھی آپ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں ، افغان مذاکرات میں تعطل جلد ازجلد ختم ہوناچاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے مسئلے پر وزیر اعظم کا موقف بڑا واضح تھا کہ یہ خطہ اب کسی اورجنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اگر کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے بہت بھیانک نتائج بر آمد ہونگے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس حوالے سے واضح کیا کہ ہم ایران کے مسئلے پر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں جس پر ٹرمپ نے کہا کہ آپ معاملات آگے بڑھا سکتے ہیں تو بڑھائیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کوایران سے گفتگوکا مینڈیٹ دیاہے ، اب وزیر اعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات ہوگی جس میں ہم دیکھیں گے کہ ایران کے ساتھ معاملات کیسے سلجھ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے بھی وزیر اعظم کی جوملاقات میں ہوئی اس میں بھی ہمارا موقف تھا کہ ہم کوجذبات کی بجائے معاملات کو سوچ سمجھ کر سلجھانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ٹرمپ سے ملاقات میں پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی جو ایمانداری سے ترجمانی کرسکتے تھے وہ کی ہے۔