چین کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے کام کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکلنا چاہیے،

پاکستان میں چین کے کوئی فوجی یا اسٹرٹیجک عزائم نہیں، سی پیک چین کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کی شاندار عکاسی ہے چینی سفیر مسٹر یو جنگ کا سی پیک کے موضوع پر منعقدہ ڈائیلاگ سے خطاب

ہفتہ 5 اکتوبر 2019 00:05

چین کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے کام کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اکتوبر2019ء) پاکستان میں تعینات چینی سفیر مسٹر یو جنگ نے کہا ہے کہ سی پیک چین کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کی شاندار عکاسی ہے، سی پیک پاکستان کے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے ہے، مغربی میڈیا پاکستان سے متعلق چین کے بارے میں غلط تاثرات ابھارتا رہتا ہے، پاکستان میں چین کے کوئی فوجی یا اسٹرٹیجک عزائم نہیں ہیں، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جمعہ کے روز جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار چینی سفیر نے کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کے تحت سی پیک کے موضوع پر منعقدہ ڈائیلاگ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چینی سفیر مسٹر یو جنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ناصرف اس خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے اہمیت ہے، سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کا مکمل ضامن نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چین سی پیک میں شراکت داری کی بنیاد پربہت بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر یوجنگ نے کہا کہ مغربی میڈیا پاکستان سے متعلق چین کے بارے میں غلط تاثرات ابھارتا رہتا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ ہم پاکستان کے لیے تعلیم، فنی تربیت، زراعت، سماجی بہبود، ٹیکنالوجی ٹرانسفرو دیگر شعبوں میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک راہداری صرف چین سے گوادر تک نہیں بلکہ مستقبل میں گوادر سے قندھار، سینٹرل ایشیااور روس تک جائے گی، ہم ناصرف اس علاقے بلکہ تمام دنیا کو رہنے کی ایک بہتر جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ مسٹر یو جنگ نے کہا کہ گوادر ابھرتا ہوا پورٹ ہے، یہ پاکستانی قوم اور حکومت کا بہت پرانا خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی حکومت کی فری زون پالیسی کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعدصرف گوادر میں 19 مشترکہ منصوبے شروع ہوں گے۔

مسٹر یوجنگ نے کہا کہ چین گوادر پورٹ چلانے کے لیے ہر سال 40 ملین ڈالرز خرچ کر رہا ہے، گوادر پورٹ اب کمرشل طور پر کام کررہا ہے اور اسے چلانے کے لئے ہم ہر ہفتے کمرشل بحری جہاز بھیجتے ہیں۔ چینی سفیر نے بتایا کہ اگلے مرحلے پر فری زون کے تحت فیکٹریاں بنائیں گے، گوادر میں زراعت، سی فوڈ اور دیگرصنعتیں قائم ہوں گی، ملازمتیں ملیں گی۔ چینی سفیر نے مزید کہا کہ گوادر کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی اورصاف پانی ہے۔

چین گوادر میں 300 میگا واٹ کا پاور پلانٹ اور 5000 ٹن پانی میٹھا کرنے کا پلانٹ لگائے گا۔ چینی سفیر نے بتایا کہ گوادر میں 200 بستروں کا اسپتال بنا رہے ہیں، تعلیمی و تکنیکی تربیتی سینٹرز بنائیں گے، گوادر میں نیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام اس سال کے آخر میں شروع ہو جائے گا۔ چینی سفیر نے بتایا کہ گوادر کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ شروع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پورے بلوچستان کے لیے گوادر مرکزی علاقہ ہے، صرف فشریز، میں چینی کمپنیاں 10 ملین ڈالرزلگا رہی ہیں، وہاں سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس لگائیں گے، ان منصوبوں سے مقامی ماہی گیری صنعت کو بھی سپورٹ ملے گی۔

چینی سفیر نے مزید کہا کہ چینی سیاحوں کو لانے کے لیے خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان سے بات کر رہے ہیں۔ ویزہ پروسیسنگ فیس سے متعلق سوال کے جواب میں چینی سفیر نے بتایا کہ اگر کوئی طالب علم یا بزنس مین ویزہ پروسیسنگ فیس نہیں ادا کر سکتا تو ہماری ایمبیسی سے رابطہ کرے، ویزہ پہلے ہی مفت ہے،ایسے کیسز میں پروسیسنگ فیس کا خرچہ بھی ایمبیسی برداشت کرے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں چینی سفیر مسٹر یو جنگ نے کہا کہ حالانکہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے لیکن پھربھی ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں، ہم ابھی تک پرفیکٹ نہیں کہلا سکتے کیونکہ ہمیں افرادی قوت کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ چینی سفیر نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری چینی وزیراعظم آنجہانی چو این لائی کا 1950 ء کی دہائی کا وژن تھا، ان کا وژن تھا کہ اس صدی کے آخر تک قراقرم ہائی وے ایک کمرشل راہداری بن جائے گی لیکن ہم علاقے کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے اس وژن سے 20سال پیچھے رہ گئے ہیں۔

چینی سفیر نے مزید کہا کہ چین کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکلنا چاہیے، علاقائی امن کے لیے چین پاکستان کے ساتھ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چینی سفیر نے کہا کہ چین پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو ہر سال ایک لاکھ ویزے جاری کرتا ہے، ویزہ پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔