ان دنوں سب سے زیادہ مذہبی کارڈ عمران خان اور ان کے ساتھی استعمال کر رہے ہیں

سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا اپنے حالیہ کالم میں اظہار خیال

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ اکتوبر 13:48

ان دنوں سب سے زیادہ مذہبی کارڈ عمران خان اور ان کے ساتھی استعمال کر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 اکتوبر 2019ء) : سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے اپنے حالیہ کالم میں ملک میں ''مذہب کارڈ'' کے استعمال پر بات کی۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ایک ہے مذہب کی خدمت اور دوسرا ہے ذاتی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اول الذکر جتنا مقدس تو ثانی الذکر اتنا ہی قبیح عمل ہے۔

اول الذکر ایمان کا تقاضا ہے تو ثانی الذکر ایمان کا خسارہ۔ دونوں کو خلط ملط کرنے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس کا تدارک کرنا ہر صاحبِ ایمان کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں مذہب کا کوئی کردار ہی نہیں ہونا چاہئے تو انہیں پہلے قائداعظم اور اقبال کا انکار کرنا ہوگا۔ ان دونوں نے اپنی سیاست کی بنیاد مذہب پر رکھ دی تھی۔

(جاری ہے)

سلیم صافی کے مطابق پاکستانی سیاست میں اگر کوئی مذہب کے کردار سے انکار کرے تو وہ خلاف آئین بات کرتا ہے اور آئین کی رو سے حکومت کا یہ فرض قرار دلوایا گیا ہے کہ وہ اسلامی احکامات کے نفاذ کے لئے کوشش کرے۔ اس لیے جو لوگ پاکستانی سیاست سے مذہب کو نکالنا چاہتے ہیں، انہیں پہلی فرصت میں پاکستان کے آئین کا انکار کرنا ہوگا یا پھر اسے بدلنا ہوگا۔

اگر ایک شخص نے زندگی دینی تعلیم کے حصول کے لئے وقف کررکھی ہے، وہ اگر شب و روز دین کی تعلیم اور تبلیغ کا کام کررہا ہے تو ہم یہ حسن ظن رکھ سکتے ہیں کہ وہ اگر کسی دینی ایشو سے متعلق حساسیت دکھا رہا ہے تو وہ خلوص نیت سے کررہا ہوگا لیکن اگر کسی سیاسی شخص کی اپنی زندگی بھی شریعت کے مطابق نہ ہو اور ان کے شب وروز دینی تعلیمات سے خالی ہوں لیکن وہ اپنے کسی کام کو دینی جامہ پہنانے کی کوشش کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مذہب کے کارڈ کو استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں سب سے زیادہ مذہبی کارڈ خان صاحب اور ان کے ساتھی استعمال کررہے ہیں لیکن ان پر یا ان کی حکومت پر یہ الزام لگانا کہ نعوذ باللہ وہ توہین رسالت کی مرتکب ہوئی ہے، سراسر بے بنیاد ہے۔عمران خان صاحب مسلمان ہیں اور کسی مسلمان کے بارے میں یہ تصور کرنا بھی جرم ہے کہ وہ دانستہ توہین رسالت کا سوچ سکتا ہے۔ چونکہ آئین اجازت دیتا ہے اس لئے مولانا فضل الرحمان صاحب بے شک مذہبی ایشوز کی بنیاد پر سیاست کریں لیکن وہ بغیر ثبوت کے توہین رسالت کے الزامات سے گریز کریں تو بہتر ہوگا۔

سلیم صافی نے اپنے کالم میں مزید کہا کہ میں نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی تھی کہ وہ حکومت کے خلاف توہین رسالت اور ختم نبوت کے کارڈ کو استعمال کرنے سے گریز کریں اور آج کالم کے ذریعے بھی ان سے یہ التجا کررہا ہوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں اصولی معاملات میں یوٹرن لینے کا قائل نہیں۔ جن اصولوں کے تحت عمران خان کے اقدام کو غلط کہا، انہی اصولوں کا اطلاق مولانا فضل الرحمٰن کے اسی طرح کے اقدام پر بھی ہوگا کیونکہ جان اللہ نے لینی ہے۔