اسلام آباد پولیس نے ممکنہ احتجاج و دھرنے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے دوسرے صوبوں سے 20 ہزار اہلکاروں کی نفری طلب کر لی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ اکتوبر 13:56

اسلام آباد پولیس نے ممکنہ احتجاج و دھرنے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 اکتوبر 2019ء) : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ممکنہ مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے بھی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے ممکنہ آزادی مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کے لیے دوسرے صوبوں سے 20 یزار اہلکاروں کی نفری طلب کر لی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پولیس اہکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر دھرنے سے نمٹنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

افسران نے اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج و دھرنے کے دوران اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے احتجاج و دھرنے سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی میں تشکیل دینا شروع کر دی ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ خیال رہے کہ سربراہ جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے لیے جمیعت علمائے اسلام کے رہنماؤں اور کارکنان نے تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔

(جاری ہے)

حکومت کی جانب سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کی بھرپور مخالفت کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کی سیاسی و اخلاقی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں احتجاج و دھرنے کے دوران دہشتگردی کے واقعات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ۔یہی وجہ ہے کہ اب حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ اور دھرنے کی اجازت نہ دینے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ اس حوالے سے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بھی مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ قانونی طریقے سے آزادی مارچ اور دھرنے کو روکا جا سکے اور ممکنہ دہشتگردی کے خدشے کو ٹالا جا سکے۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تھا لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تاہم اب سے کچھ دیر قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری نے وفاقی دارالحکومت میں ڈی چوک پر دھرنے کے لیے درخواست دے دی ہے۔