Live Updates

پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار ہے ایسے حالات میں کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا،حافظ طاہر اشرفی

قانون ناموس رسالت ،ختم نبوت، مدارس و مساجد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ،ہم انتشارپھیلانے والی کسی جماعت یا تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے ؔ مسئلہ کشمیر جس نازک موڑ سے گزر رہا ہے ایسے حالا ت میں پوری قوم کو اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیے / بعض عناصر کی جانب سے محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعے اس مسئلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے، وفود سے گفتگو

بدھ اکتوبر 22:16

پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار ہے ایسے حالات میں کسی محاذ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 اکتوبر2019ء) چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار ہے ایسے حالات میں ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ قانون ناموس رسالت ،ختم نبوت، مدارس و مساجد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ،ہم انتشارپھیلانے والی کسی جماعت یا تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔

مسئلہ کشمیر جس نازک موڑ سے گزر رہا ہے ایسے حالا ت میں پوری قوم کو اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن بعض عناصر کی جانب سے محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعے اس مسئلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان علماء کونسل کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

حافظ محمد طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس سے محبت ووفاداری کا تقاضہ ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جس سے اس موقع پر وطن عزیز کو نقصان پہنچے، دشمن کشمیر پر پنجے گاڑے بیٹھا ہے اور وادی میں گزشتہ دو ماہ سے کرفیو نافذ ہے، ایسی صورتحال میں اہل کشمیر کی نگاہیں پاکستان کی جانب لگی ہوئی ہیں ، حکومت پاکستان ، افواج پاکستان ، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور دیگر تمام طبقات مسئلہ کشمیرپر متحد نظر آرہے ہیں لیکن کچھ لوگ ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر ملک میںمحاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یا خطے کے داخلی امور تک محدود نہیں رہا ، یہ عالمی انسانیت کے لیے سوالیہ نشان اور چیلنج بن چکا ہے۔ آج جو سلوک بھارت کی آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے اگر یہی سلوک 80لاکھ ہندوئوں ، مسیحیوں یا یہودیوں کے ساتھ روا رکھا جائے تو کیا دنیا کا ردعمل یہی ہوگا جو آج کشمیر کی صورتحال پر ہے۔

جو مغربی ممالک اور مہذب دنیا جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے نہیں تھکتے انہیں مقبوضہ کشمیر میں دم توڑتی انسانیت کیوں نظر نہیں آتی، عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام عالم کے سامنے جس انداز سے مسئلہ کشمیر کو رکھا وہ لائق تحسین ہے۔ پوری قوم مسئلہ کشمیر پر ایک پیج پر ہے، یہ دنیا کے لیے واضح پیغام ہے اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے کا سبب ہے ،انہوں نے کہا کہ کشمیری جان لیں کہ ان کا وکیل ’’پاکستان ‘‘ کمزور نہیں اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر کسی مصلحت کا شکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پھیلانے کا کوئی بھی عمل اس وقت براہ راست مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات